وفاقی وزیرپروفیسر احسن اقبا ل کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کے 149ویں یومِ پیدائش کی قومی سطح پر تقریبات کے آغاز کا باقاعدہ اعلان

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے جمعرات کو جناح کنونشن سینٹر میں قائداعظم محمد علی جناح کے 149ویں یومِ پیدائش کی قومی سطح پر تقریبات کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کیا۔اس موقع پر وزیر نے نوجوانوں، علماء اور پالیسی سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے موجودہ چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے اگر وہ اتحاد، ایمان اور قربانی …

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے جمعرات کو جناح کنونشن سینٹر میں قائداعظم محمد علی جناح کے 149ویں یومِ پیدائش کی قومی سطح پر تقریبات کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کیا۔اس موقع پر وزیر نے نوجوانوں، علماء اور پالیسی سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے موجودہ چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے اگر وہ اتحاد، ایمان اور قربانی کے بانی اصولوں کو دوبارہ اپنائے۔

انہوں نے یہ پیغام "اُڑان پاکستان” ترقیاتی فریم ورک کے ذریعے پیش کیا۔تقریب میں نوجوانوں کے ویڈیو پیغامات، علماء اور پالیسی سازوں کے ساتھ پینل مباحثہ، قومی نغمات کی پرفارمنسز اور وفاقی وزراء احسن اقبال اور عطاءاللہ تارڑ کے کلیدی خطابات شامل تھے، جنہوں نے سال بھر کی تقریبات کی سمت متعین کی۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یہ موقع محض رسمی نہیں بلکہ قومی خود احتسابی کا لمحہ ہے۔

ہم یہاں صرف ایک تاریخ منانے کے لیے جمع نہیں ہوئے بلکہ اس شعلے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ہیں جس نے ایک شکست خوردہ اور منقسم قوم کو ایک عظیم قوم میں تبدیل کیا۔وفاقی وزیر نے قائداعظم کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کردار، آئینی جدوجہد اور اخلاقی جرات کے ذریعے تاریخ رقم کی، پاکستان کا قیام منصوبہ بندی اور منظم سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا، اتفاق یا حادثے کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے ہمیشہ عوامی زندگی میں ایمانداری، تنظیم میں نظم و ضبط، دلائل میں منطق اور آئینی اصولوں پر ایمان کو فروغ دیا۔ عظیم قومیں شور اور ہنگامے سے نہیں بلکہ نظم و ضبط، قربانی اور محنت سے بنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا وژن ایک جمہوری، شمولیتی اور میرٹ پر مبنی پاکستان تھا، جہاں اقلیتیں برابر کے شہری حقوق رکھیں، قانون کی حکمرانی ہو اور ادارے غیر جانبداری سے کام کریں۔

موجودہ چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مشکلات وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام، پالیسی کی غیر تسلسل، اداروں کی کمزوری، تعلیم کی غفلت اور نظم و ضبط کی کمی کی وجہ سے ہیں۔ جب بھی ہم نے نظم و ضبط سے کام لیا ہم ترقی کرتے رہے، جب بھی ہم منقسم ہوئے زوال آیا۔

انہوں نے "اُڑان پاکستان” کو قائداعظم کے خواب کو جدید ترقیاتی حکمت عملی میں تبدیل کرنے کا ایک عملی فریم ورک قرار دیا۔ اس کے پانچ ستون ہیں: برآمدات، ای-پاکستان، مساوات اور اختیارات کی فراہمی، ماحولیات اور موسمی تبدیلی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی۔

نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قائداعظم کے اس یقین کو یاد دلایا کہ طلبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں اور انہیں مایوسی کو ترک کر کے جدید مہارتیں اپنانے، دیانت داری برقرار رکھنے اور جدت و پیداوار کے ذریعے پاکستان کے مستقبل کی قیادت کرنے کی تاکید کی۔

تقریب کا اختتام قومی عہد کی تجدید کے ساتھ ہوا، جس میں اداروں کو مضبوط کرنے، قانون اور میرٹ کو فروغ دینے، ہر بچے کی تعلیم، اور خواتین و نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر زور دیا گیا، اس کے ساتھ ہی قائداعظم کے 149ویں یومِ پیدائش کی سال بھر قومی تقریبات کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔