اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):ماہرِ معیشت اوروزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے اسے بڑی کامیابی کے طور پر دیکھنا چاہیے، قومی ایئرلائن کی نجکاری سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں بے بنیاد ہیں ۔جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں خرم شہزاد نے کہا کہ جس کمپنی کی نجکاری کی …
پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے اسے بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھنا چاہیے، ، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):ماہرِ معیشت اوروزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے اسے بڑی کامیابی کے طور پر دیکھنا چاہیے، قومی ایئرلائن کی نجکاری سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں بے بنیاد ہیں ۔جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں خرم شہزاد نے کہا کہ جس کمپنی کی نجکاری کی گئی ہے اس کی خالص مالیت صرف 9 ارب روپے ہےجبکہ حکومت کو اس معاہدے کے تحت آج کی تاریخ میں 55 ارب روپے کی قدر حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے ہر سال قومی خزانے کو تقریباً 50 ارب روپے کا نقصان پہنچا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر نجکاری کے بعد کمپنی بہتر انداز میں چلائی گئی تو یہ نقصان کا باعث بننے کے بجائے ٹیکس دینے اور معیشت میں حصہ ڈالنے والا ادارہ بن سکتی ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ خریدار کنسورشیم سرمایہ نہ لگائےکیونکہ معاہدے کے مطابق انہیں 83 ارب روپے (دو تہائی رقم) سرمایہ کاری کرنا اور حکومتی واجبات ادا کرنا لازمی ہے، تب ہی معاہدہ مکمل ہو گا۔ باقی ایک تہائی رقم کی ادائیگی کے لیے ایک سال کی مہلت دی گئی ہےجس کے بدلے حکومت کے پاس حصص، پرفارمنس بانڈز ہیں اور پرامسری نوٹ کا تقاضا کیا جا سکتا ہے، یہ ایک سنجیدہ اور ٹھوس معاہدہ ہے ۔
انہوں نے طیاروں کی مالیت سے متعلق دعوؤں کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ نئے طیاروں کی قیمتوں کو بنیاد بنا کر پی آئی اے کے طیاروں کی مالیت 500 ملین ڈالر بتا رہے ہیں جو حقیقت کے برعکس ہے۔ پرانے طیاروں کی مارکیٹ ویلیو نئی طیاروں جیسی نہیں ہوتی اور انہیں فوری طور پر فروخت بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی پی آئی اے کے طیارے کل 190 ارب روپے کے اثاثوں میں شامل ہیں جبکہ واجبات 181 ارب روپے ہیں ، اس طرح خالص ایکویٹی صرف 9 ارب روپے بنتی ہے۔انہوں نے قیمتی روٹس کے حوالے سے کہا کہ اگر واقعی روٹس اتنے منافع بخش ہوتے تو پی آئی اے مسلسل خسارے میں نہ جاتی۔
صرف روٹس یا طیارے منافع نہیں دیتے بلکہ اداروں کا مؤثر اور پیشہ ورانہ انتظام ہی اصل فرق پیدا کرتا ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی بنانا ہے۔ سیاسی مداخلت کے باعث سرکاری ادارے نااہلی، کرپشن، سیاسی بھرتیوں اور ناقص فیصلوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بار بار بیل آؤٹ دینا پڑتا ہے اور کوئی احتساب نہیں ہوتا۔
انہوں نے نجکاری کو پاکستان کے لیے مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس کی شرح کم کرنے، حکومت کے حجم میں کمی، سرکاری اداروں کی نجکاری، بالواسطہ سبسڈیز کے خاتمے اور صرف باہدف براہِ راست سبسڈی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح زرعی اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے تعین سے حکومت کو دستبردار ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمیں مختلف حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید جاری رکھنی چاہیئے تاہم موجودہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے اور اسے خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔







