لاہور۔26دسمبر (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایات کے مطابق ادائیگیوں کے نظام میں مزید شفافیت اور سہولت کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹ کا باقاعدہ اجرا کر دیا ہے۔ اس وقت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں ایک کروڑ مستحق خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک مفت سمز …
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں ایک کروڑ مستحق خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے،سینیٹر روبینہ خالد

مزید خبریں
لاہور۔26دسمبر (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایات کے مطابق ادائیگیوں کے نظام میں مزید شفافیت اور سہولت کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹ کا باقاعدہ اجرا کر دیا ہے۔
اس وقت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں ایک کروڑ مستحق خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک مفت سمز کی فراہمی کا عمل تقریبا 50 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی پاکستان کی تاریخ میں خواتین کی سماجی تحفظ، ڈیجیٹل و مالی نظام میں شمولیت کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز لاہور میں بی آئی ایس پی کے سینٹرل ذونل آفس پنجاب کے دورہ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کل شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی ہے، بی بی شہید بہادری، استقامت اور جدوجہد کی علامت ہیں، ہم خواتین اپنی طاقت اور حوصلہ بی بی کے نام سے لیتی ہیں،
خواتین کے حقوق اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے پوری دنیا ان کے کردار کو سراہتی ہے۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے رقم براہِ راست مستحق خواتین کے ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کی جائے گی، جس سے انہیں دفاتر یا مراکز کے بار بار چکر نہیں لگانے پڑیں گے اور وہ باآسانی اپنی مالی معاونت حاصل کر سکیں گی۔
اس مقصد کے لیے مستحق خواتین کو مفت سمز فراہم کی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے ڈیجیٹل والٹس بنائے جائیں گے۔سینیٹر روبینہ خالد نے واضح طور پر کہا کہ یہ سمز بالکل مفت ہیں اور صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر اور مراکز سے ہی فراہم کی جا رہی ہیں۔ بی آئی ایس پی کا عملہ ہی ان سمز پر خواتین کے ڈیجیٹل والٹس فعال کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی کسی بھی اسکیم، بالخصوص ان سمز کے حصول کے لیے کوئی فیس یا رقم نہیں لی جا رہی۔انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ ان سمز کی حفاظت اسی طرح کریں جیسے اپنے بٹوے یا نقد رقم کی حفاظت کرتی ہیں، کیونکہ مستقبل میں تمام ادائیگیاں انہی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائیں گی اور خواتین کہیں سے بھی اپنی رقم حاصل کر سکیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگاری ایک بڑا قومی مسئلہ ہے، جس کے پیش نظر بینظیر ہنرمند پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ مستحق افراد کو ہنر مند بنا کر معاشی طور پر خود مختار کیا جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا قول دہرایا کہ ہنر آپ کا سرمایہ ہے۔
بعد ازاں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ایل ڈی اے سبزہ زار، جی ایچ ایس علی رضا آباد اور شالامار باغبانپورہ میں قائم بی آئی ایس پی سم تقسیم مراکز کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے سوشل پروٹیکشن والٹ کے لیے مفت سمز کی فراہمی کے عمل کا جائزہ لیا۔
انہوں نے عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ مستحق خواتین کی مکمل اور موثر رہنمائی کی جائے تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین کو مفت سم کے حصول اس کے درست استعمال اور تحفظ کے حوالے سے بھی ضروری ہدایات دیں۔








