ملتان۔ 03 جنوری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے چنے کی فصل کی بہتر دیکھ بھال اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کاشتکاروں کے لیے اہم سفارشات جاری کر دی ہیں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے، جس کی پنجاب میں تقریباً 22 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی جاتی ہے، جبکہ چنے کا لگ بھگ 92 فیصد رقبہ بارانی …
محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے چنے کی فصل کی بہتر دیکھ بھال کے لیے اہم ہدایات جاری کردیں
ملتان۔ 03 جنوری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے چنے کی فصل کی بہتر دیکھ بھال اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کاشتکاروں کے لیے اہم سفارشات جاری کر دی ہیں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے، جس کی پنجاب میں تقریباً 22 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی جاتی ہے، جبکہ چنے کا لگ بھگ 92 فیصد رقبہ بارانی علاقوں پر مشتمل ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ چنے کی فصل کو پیازی، باتھو، کرنڈ، چھنکنی بوٹی، لیہلی رُت، پھلائی، دمبی سٹی اور ریواڑی جیسی جڑی بوٹیاں شدید نقصان پہنچاتی ہیں، اس لیے فصل کے آغاز ہی سے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی نہایت ضروری ہے۔
جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے گوڈی کا طریقہ مؤثر قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت پہلی گوڈی فصل اگنے کے 30 سے 40 دن بعد اور دوسری گوڈی پہلی کے ایک ماہ بعد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ریتلے علاقوں میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے روٹری کا استعمال نہایت مؤثر بتایا گیا ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے واضح کیا کہ بارانی اور ریتلے علاقوں میں زرعی زہروں کا استعمال صرف اسی صورت میں کیا جائے جب زمین میں مناسب وتر موجود ہو۔ آبپاشی کے حوالے سے بتایا گیا کہ کابلی چنے کی فصل کو پہلا پانی بوائی کے 60 سے 70 دن بعد جبکہ دوسرا پانی پھول آنے کے مرحلے پر دیا جائے۔
دھان کی فصل کے بعد کاشت کیے گئے چنے کو عام طور پر آبپاشی کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم ستمبر میں کاشتہ کماد میں چنے کی فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کیا جائے۔ترجمان نے مزید کہا کہ چنے کی فصل پر بیماریوں یا کیڑوں کے حملے کی صورت میں کاشتکار محکمہ زراعت کے مقامی توسیعی ماہرین سے فوری رابطہ کریں اور ان کی سفارشات پر عمل کریں تاکہ فصل کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔









