اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر مسلط کیا ہوا نسل پرستی پر مبنی نظام ختم کرے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔8جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری امتیازی سلوک اور نسل پرستی پر مبنی نظام جاری رکھنے کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے اسرائیل فلسطینیوں پر مسلط کیا ہوا نسل پرستی پر مبنی نظام ختم کرے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے جاری …

اقوام متحدہ۔8جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری امتیازی سلوک اور نسل پرستی پر مبنی نظام جاری رکھنے کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے اسرائیل فلسطینیوں پر مسلط کیا ہوا نسل پرستی پر مبنی نظام ختم کرے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں بتائی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف ایک منظم امتیازی سلوک جاری رکھا ہوا ہے جو حالیہ برسوں میں مزید سنگین ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے سربراہ وولکر ترک نے اپنے بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے حقوق کو منظم طریقے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ کے معاملات میں بھی فلسطینیوں کے لیے زندگی امتیازی قوانین، پالیسیوں اور مختلف طریقوں طریقوں سے تنگ کر دی گئی ہے۔ کسی فلسطینی نے چائے یا پانی تک رسائل حاصل کرنی ہو، سکول یا ہسپتال تک جانا ہو، دوستوں یا رشتہ داروں سے ملنا ہو یا زیتون کے اپنے باغات میں جانا ہو ان سب معاملات میں فلسطینیوں کو شدید نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ نسلی برتاؤ ان پانچ لاکھ یہودی آبادکاروں کی طرف سے روا رکھا جا رہا ہے جو مغربی کنارے میں دوسرےممالک سے لاکر آباد کئے گئے ہیں ۔

گزشتہ 2 سال سے زائد عرصے کے دوران جب اسرائیل نے غزہ میں جنگ شروع کی تھی مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے زندگی اور بھی اجیرن ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں نے اس عرصے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے ہیں، سینکڑوں فلسطینی زخمی اور گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ سینکڑوں مکان اور جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں۔ غزہ میں جب سے اسرائیلی جنگ شروع ہوئی ہے فلسطینی شہریوں کو مغربی کنارے میں بھی ایک مسلسل سزا دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر قانونی طاقت کا استعمال بڑھا دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کو جیلوں میں بند کرنے اور تشدد کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں ان سارے حوالوں سے تفصیل پیش کی ہے۔ معاشرے میں جبر بڑھ چکا ہے، فلسطینیوں کے خلاف پابندیاں عائد ہیں،حتیٰ کہ میڈیا بھی آزادی سے مغربی کنارے میں کام نہیں کر سکتا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ انتہائی خراب ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بہت تیزی سے غیر قانونی یہودی بستیاں بسائی جا رہی ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان بستیوں کا بسایا جانا ناجائز ہے۔ حتیٰ کہ فلسطینیوں کی اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ہزاروں فلسطینی جیلوں میں بغیر مقدمے کے انتظامی نظر بندی کی وجہ سے بند کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس امر کے لئے ٹھوس دلائل موجود ہیں کہ لوگوں کو تقسیم کرنا اور ان کو محکوم بنانے کی تسلسل سے پالیسی جاری ہے تاکہ فلسطینیوں پر جبر اور اسرائیلی تسلط قائم کیا جا سکے۔ یہ بین الاقوامی قانون اور نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے جو نسلی بنیادوں پر لوگوں کو الگ کرنے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کو روکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی طرف سے تازہ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل ان غیر قانونی کارروائیوں کو روکے اور ناجائز آباد کی گئی بستیوں کا خاتمہ کرے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق سمیت حق خودارادیت کا احترام کرے۔