ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری، متعدد عمارتیں نذر آتش

تہران۔9جنوری (اے پی پی):ایران میں ملکی کرنسی کی قدر میں کمی پرحکومت مخالف مظاہرے ملک بھر میں پھیل رہے ہیں اور ان مظاہروں کے شرکا نے دارالحکومت تہران میں متعدد عمارتوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔ بی بی سی نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں کے حوالے سے بتایا کہ حکومت مخالف مظاہرے ملک کے تمام 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں اور …

تہران۔9جنوری (اے پی پی):ایران میں ملکی کرنسی کی قدر میں کمی پرحکومت مخالف مظاہرے ملک بھر میں پھیل رہے ہیں اور ان مظاہروں کے شرکا نے دارالحکومت تہران میں متعدد عمارتوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔ بی بی سی نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں کے حوالے سے بتایا کہ حکومت مخالف مظاہرے ملک کے تمام 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکے ہیں۔ ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوئے ہیں ۔ ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں ہونے والے ان مظاہروں میں شامل افراد کو سکیورٹی فورسز نے منتشر نہیں کیا۔

ایران میں جاری مظاہروں کی وجہ سے مُلک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کی بھی اطلاعات ہیں جس کی تصدیق ایک مانیٹرنگ گروپ نے بھی کی ہے۔ مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے اور سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 45 مظاہرین، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں مارے گئے ہیں۔ مظاہرین کی طرف سے اصفہان میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی عمارت کو آگ لگا نے کی بھی اطلاعات ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر حملے کئے اور حکومتی فورسز اور پولیس کی گاڑیوں اور بیرکس کو آگ لگا دی۔

شازند شہرمیں مظاہرین نے گورنر آفس کی عمارت کو نذر آتش کر دیا۔سابق شاہِ ایران کے جانشین رضا پہلوی نے مظاہروں پر اپنے پہلے ردعمل میں مظاہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی بندش، مظاہرین پر تشدد اور اُن کے آواز کو دبانے پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایرانی عوام اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ عوام لاکھوں کی تعداد میں اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں ایرانی حکومت نے مکمل طور پر ذرائع مواصلات بند کر دیے ہیں، انٹرنیٹ منقطع کر دیا، لینڈ لائن فونز کو بند کر دیا اور ممکن ہے کہ سیٹلائٹ سگنلز کو بھی معطل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھوں نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے ایرانی حکومت کو جوابدہ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

رضا پہلوی نے مغربی ممالک کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی رہنما، اُن کی طرح اپنی خاموشی توڑیں اور ایرانی عوام کی حمایت میں کُھل کر سامنے آئیں۔ میں دنیا کے تمام رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دستیاب تکنیکی، مالی اور سفارتی وسائل استعمال کریں تاکہ ایرانی عوام سے رابطہ بحال کیا جا سکے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کی خواہشات کو دیکھا جا سکے۔ میرے بہادر ہم وطنوں کی آواز کو خاموش نہ ہونے دیں۔

امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایرانی عوام کے مظاہروں کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں بھی صورتحال ویسی ہی ہے جیسے وینزویلا میں تھی۔بیلجیم کے وزیرِاعظم بارٹ دے وور نے ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں کے جبر اور معاشی مشکلات کے بعد آزادی کے لیے کھڑے ہونے پر ایرانی عوام ہماری مکمل حمایت کے مستحق ہیں اور ان کی آواز کو تشدد کے ذریعے دبانا ناقابلِ قبول ہے۔