ریاض ۔10جنوری (اے پی پی):سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کی تحلیل کے اعلان کے بعد اپنے پہلے ردِعمل میں کہا ہے کہ یہ اقدام جرات مندانہ اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ جنوبی یمن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اب ایک …
یمن کی جنوبی عبوری کونسل کی تحلیل جُرات مندانہ اقدام ہے، سعودی وزیر دفاع

مزید خبریں
ریاض ۔10جنوری (اے پی پی):سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کی تحلیل کے اعلان کے بعد اپنے پہلے ردِعمل میں کہا ہے کہ یہ اقدام جرات مندانہ اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ جنوبی یمن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اب ایک حقیقی راستہ موجود ہے، جس کی سرپرستی مملکت سعودی عرب کر رہی ہے اور جسے ریاض کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔
اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس عمل کا مقصد ہمارے جنوبی یمنی بھائیوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تاکہ منصفانہ حل کے لیے ایک جامع وژن تشکیل دیا جا سکے، جو ان کی خواہشات اور مرضی کے مطابق ہو۔ اپنے بیان میں سعودی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ سعودی عرب جنوبی یمن کی ممتاز شخصیات سے مشاورت کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دے گی، جو کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس میں یمن کے تمام جنوبی صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بلا امتیاز شرکت کا موقع دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کانفرنس کے نتائج کی مکمل حمایت کرے گا تاکہ انہیں یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے ہونے والے مکالمے میں پیش کیا جا سکے۔اپنے بیان میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ جنوبی یمن کی ممتاز شخصیات اورقائدین کی جانب سے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو تحلیل کرنے کا فیصلہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے جو ریاض کانفرنس میں جنوبی یمن کی وسیع تر شمولیت کو فروغ دینے کی نیت سے کیا گیا ہے۔
قبل ازیں یمن کی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل (ایس ٹی سی) نے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اپنی تنظیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔جنوبی یمن میں بدامنی کے خاتمے سے متعلق بات چیت کے لیے ایس ٹی سی کے کئی ارکان اس وقت ریاض میں موجود ہیں جنہوں نے ریاض سدرن ڈائیلاگ کانفرنس میں شرکت کی ہے۔ اجلاس کے دوران کونسل کے ارکان نے کہا کہ حضرموت اور المہرہ میں کی گئی فوجی کارروائیوں نے یمن میں جنوبی کاز کو نقصان پہنچایا۔ کونسل کا کہنا تھا کہ وہ حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیوں کے فیصلے میں شامل نہیں تھی۔ کونسل نے ریاض میں مذاکراتی کانفرنس کی میزبانی پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔








