صرف تین برس میں روبوٹ دنیا کے بہترین میڈیکل سرجنز سے بہتر کارکردگی دکھا سکے گا، ایلون مسک کا دعویٰ

واشنگٹن۔10جنوری (اے پی پی):ٹیسلا کے سی ای او کھرب پتی امریکی ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کمپنی کا انسان نما روبوٹ ’’آپٹیمس‘‘صرف تین برس میں دنیا کے بہترین میڈیکل سرجنز سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکے گا۔انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ٹیسلا کے سی ای او نے یہ دعویٰ’’مون شاٹس‘‘ پوڈکاسٹ کے میزبان، امریکی معالج اور انجینیر پیٹر ڈیامانڈس سے گفتگو کے دوران کیا۔ ایلون …

واشنگٹن۔10جنوری (اے پی پی):ٹیسلا کے سی ای او کھرب پتی امریکی ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کمپنی کا انسان نما روبوٹ ’’آپٹیمس‘‘صرف تین برس میں دنیا کے بہترین میڈیکل سرجنز سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکے گا۔انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ٹیسلا کے سی ای او نے یہ دعویٰ’’مون شاٹس‘‘ پوڈکاسٹ کے میزبان، امریکی معالج اور انجینیر پیٹر ڈیامانڈس سے گفتگو کے دوران کیا۔

ایلون مسک نے کہا اس وقت ڈاکٹروں اور بہترین سرجنز کی کمی ہے۔ ایک اچھا ڈاکٹر بننے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے لیکن دوسری طرف میڈیکل کے شعبہ میں مسلسل پانی معلومات نئی معلومات سے تبدیل ہو رہی ہوتی ہیں ۔ ایسی صورتحال میں ڈاکٹروں کے لئے ہر چیز کے ساتھ چلنا مشکل ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس محدود وقت ہوتا ہے، وہ غلطیاں بھی کرتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا میں موجود ماہر ترین سرجنز کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے خیال میں آپٹیمس کب تک دنیا کے بہترین سرجنز سے بہتر سرجن بن سکے گا ، ایلون مسک نے جواب دیا کہ تین سال، اور یہ تین سال بھی زیادہ ہیں۔ ممکن ہے کہ بہترین سرجن صلاحیت رکھنے والے آپٹیمس روبوٹس کی تعداد زمین پر موجود تمام سرجنز سے بھی زیادہ ہو جائے۔ایلون مسک نے پہلی بار 2022 میں آپٹیمس روبوٹ کے پروٹوٹائپس متعارف کرائے تھے اور کہا تھا کہ ابتدائی پیداوار اگلے سال شروع ہو سکتی ہے۔

دو سال بعد یعنی 2024 میں ایلون مسک نے اعلان کیا کہ ان روبوٹس کی فروخت شروع کرنےکے لئے 2026 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔نیویارک یونیورسٹی کے گراس مین سکول آف میڈیسن کے بایوایتھکس کے پروفیسر آرتھر کیپلان نے بتایا کہ اس دعوے کے حوالے سے ایلون مسک کچھ زیادہ ہی پُرامید ہیں اور بڑے آپریشنز کے لیے روبوٹس کا وسیع پیمانے پر استعمال بہت طویل عرصے تک ناممکن رہے گا۔