مصر، سرکاری ہسپتال میں ہم شکل جڑواں بھائی کی جگہ دو سال تک ملازمت کرنے والا جعلی ڈاکٹر گرفتار

قاہرہ۔10جنوری (اے پی پی):مصر کے سرکاری ہسپتال میں دو سال تک ملازمت کرنے والے جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مصری کمشنری البحیرہ میں 29 سالہ شخص جو محض سائنس گریجویٹ تھا دو برس تک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر مریضوں کا علاج کر تا رہا۔ پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ کمشنری میں رہنے والے دو جڑواں …

قاہرہ۔10جنوری (اے پی پی):مصر کے سرکاری ہسپتال میں دو سال تک ملازمت کرنے والے جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مصری کمشنری البحیرہ میں 29 سالہ شخص جو محض سائنس گریجویٹ تھا دو برس تک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر مریضوں کا علاج کر تا رہا۔ پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ کمشنری میں رہنے والے دو جڑواں بھائی جن میں ایک سند یافتہ ڈاکٹر جبکہ دوسرا محض سائنس گریجویٹ تھا ان کی شکل وجسامت ایک دوسرے سے بے حد ملتی تھی۔

ڈاکٹر بھائی کمشنری کے طبی مرکز شبرا خیت میں ملازم تھا جبکہ دوسرا بے روزگارتھا ۔ ڈاکٹر بھائی کو ایک نجی ہسپتال سے بہتر تنخواہ پر ملازمت کی پیش کش ہوئی جس پر اس نے بغیرتنخواہ کے لمبی چھٹی کی درخواست دی مگرریجنل ڈائریکٹر صحت نے اس کی چھٹی کی درخواست مسترد کر دی۔ چھٹی کی درخواست مسترد ہونے پر دونوں بھائیوں نے اپنی یکساں شکل و قامت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مل کر فیصلہ کیا کہ ڈاکٹربھائی نئی نوکری جوائن کرے جبکہ دوسرا اس کی جگہ سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر کے طورپر خدمات انجام دےگا دونوں نے اس فیصلے پر عمل شروع کر دیا۔

جڑواں بھائیوں کی شکل اورجسامت اس قدر یکساں تھی کہ ہسپتال کا عملہ اور مریض کوئی بھی فرق محسوس نہ کرسکا۔جعلی ڈاکٹر دو برس تک اپنے بھائی کی جگہ ملازمت کرتا رہا تاہم ایسے کیسز جن میں کسی قسم کا خطرہ تھا انہیں مصروفیت کا بہانہ بنا کر لینے سے معذرت کردیتا جبکہ معمولی کیسز پر وہ اپنے بھائی سے مشورہ کرتا اور اس کی ہدایات پرعمل کرتا تھا۔یہ جعل سازی دو برس تک بغیر کسی مشکل کےچلتی رہی مگر ایک روز ہسپتال میں تعینات ایک نرس کو کسی بات پرشک ہوگیا اور اس نے حقیقت کا کھوج لگا کر متعلقہ ادارے کو اطلاع کردی۔ہسپتال کی انتظامیہ نے کیس کی باریک بینی سے تحقیقات کرنے کے لیے سپیشل برانچ کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے سب سے پہلے جعلی ڈاکٹر سے تحقیقات کی اور حقیقت آشکار ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیا بعدازاں اصلی ڈاکٹر کو بھی حراست میں لے کر اس کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ درج کرکے کیس پراسیکیوشن کو بھیج دیا گیا۔