اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)نے کہا ہے کہ ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی ملکی برآمدات میں2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ڈریپ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات میں34 فیصد اضافہ ہوا ہے،اس کی وجہ منظوری اور رجسٹریشن کے عمل میں متعارف اصلاحات اور نظام میں بڑھتی شفافیت کا نتیجہ ہے۔ حکام …
ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی ملکی برآمدات میں 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر 34 فیصد اضافہ ہوا،ڈریپ
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)نے کہا ہے کہ ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی ملکی برآمدات میں2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ڈریپ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات میں34 فیصد اضافہ ہوا ہے،اس کی وجہ منظوری اور رجسٹریشن کے عمل میں متعارف اصلاحات اور نظام میں بڑھتی شفافیت کا نتیجہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مؤثر نظام کے ذریعے اربوں روپے کی بچت ممکن بنائی گئی، اصلاحات کا براہِ راست فائدہ عوام کو پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ڈریپ میں اصلاحات اور شفافیت کی بدولت جدید اور جان بچانے والی ٹیکنالوجیز مریضوں تک بروقت پہنچ رہی ہیں،ادارہ اپنے ریگولیٹری امور کا تقریباً 70 فیصد ڈیجیٹل کر چکا، مارچ 2026 تک سو فیصد ڈیجیٹلائزیشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آن لائن میڈیکل ڈیوائسز رجسٹریشن سسٹم اور ای آفس جیسے اقدامات سے انسانی غلطیوں و تاخیر کو کم اور نظام کی شفافیت میں اضافہ کیا گیا۔ڈریپ حکام نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کے لیے سرٹیفکیشن کے اجرا کے دورانیے میں نمایاں کمی کی گئی ،ادویات کی برآمدی رجسٹریشن کا دورانیہ 60 دن سے کم ہو کر 10 دن رہ گیا اور ادارہ ایف ایس سی (FSC )اور CoPP جیسے سرٹیفکیٹس 30 دن کے بجائے 5 دن میں جاری کرنےلگا۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں دواسازی کی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا دورانیہ بھی کم ہو کر تقریباً 20 دن رہ گیا،ون ونڈو سہولت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ذریعے پاکستان کو دواسازی میں خود کفیل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔حکومتی جائزہ پلیٹ فارم business.gov.pk کے مطابق ڈریپ میں اصلاحات کے باعث ریگولیٹری عمل کو سادہ اور مؤثر بنایا گیا ہے، نئی تھراپیز اور کینسر کے علاج سے متعلق مصنوعات کے لیے تیز رفتار منظوری کا نظام بھی متعارف کرایا گیا، اس کا دورانیہ تین ماہ رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر کوالٹی کنٹرول لیبارٹری نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔
قومی ویکسین پالیسی کا مسودہ تیار کیا جا چکا، مقامی سطح پر اے پی آئی (API )کی تیاری کے لیے روڈمیپ پر کام جاری ہے۔ صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او)کے معیار کے مطابق لانے کے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈریپ رجسٹریشن اور منظوری کے نظام میں شفافیت بڑھانے اور بہتری کےلئے اصلاحات لانے کےلئے پرعزم ہے،دسمبر 2025 میں ادارے کو حکومت کی جانب سے ریفارمز چیمپئن کا ایوارڈ بھی دیا گیا ۔









