پاکستانی آڈٹ نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیشرفت ، 2022 سے آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی تیاری اور نفاذ سے اسے جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا گیا ہے، دفتر آڈیٹر جنرل

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان نے سرکاری شعبے کے آڈٹ نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیش رفت کر لی ، 2022 سے آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے ذریعے آڈٹ کے پورے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا گیا ہے۔دفترِ آڈیٹر جنرل پاکستان کے مطابق اے ایم آئی ایس ( AMIS )نے آڈٹ پلاننگ سے لے کر حتمی آڈٹ رپورٹ تک پورے عمل کو مکمل طور …

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان نے سرکاری شعبے کے آڈٹ نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیش رفت کر لی ، 2022 سے آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے ذریعے آڈٹ کے پورے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا گیا ہے۔دفترِ آڈیٹر جنرل پاکستان کے مطابق اے ایم آئی ایس ( AMIS )نے آڈٹ پلاننگ سے لے کر حتمی آڈٹ رپورٹ تک پورے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا ہے، اس نظام کی بدولت آڈٹ کے عمل میں کارکردگی، مؤثریت اور شفافیت میں نمایاں بہتری آئی ہے جس سے عوامی مالیاتی نگرانی مزید مضبوط ہوئی ہے۔

آڈٹ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت اے ایم آئی ایس کو اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل نظام بنانے کے لیے مزید توسیع کا کام جاری ہے جس کے تحت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی)اور پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کے ساتھ ڈیجیٹل انٹرفیس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ رابطہ کاری اور حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ بہتر بنایا جا سکے،اس کے ساتھ ساتھ آڈیٹر جنرل کے دفتر میں سنٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس کو بھی مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے جس کا افتتاح دسمبر 2025 میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کیا تھا۔

مستقبل کے منصوبوں میں آڈٹ جانچ پڑتال کے لیے بگ ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال بھی شامل ہے جس کے لیے آڈیٹر جنرل کے دفتر نے پہلے ہی چار جدید سافٹ ویئر لائسنس حاصل کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ڈیٹا کے تبادلے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے یونیورسل بزنس لینگویج معیار کو اپنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔حکام کے مطابق یہ اقدامات ملکی آڈٹ نظام کو جدید بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور سرکاری اداروں میں احتساب کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔