معروف شاعر محسن نقوی کی برسی منائی گئی

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):اردو کے معروف شاعر محسن نقوی کی برسی جمعرات 15 جنوری کو منائی گئی۔ محسن نقوی کا اصل نام سید غلام عباس اورمحسن تخلص تھا جبکہ لفظ نقوی کو وہ اپنے تخلص کے ساتھ تحریر کرتے تھے۔ وہ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خاں میں حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے اردو میں ایم اے کیا ۔ …

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):اردو کے معروف شاعر محسن نقوی کی برسی جمعرات 15 جنوری کو منائی گئی۔ محسن نقوی کا اصل نام سید غلام عباس اورمحسن تخلص تھا جبکہ لفظ نقوی کو وہ اپنے تخلص کے ساتھ تحریر کرتے تھے۔ وہ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خاں میں حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے اردو میں ایم اے کیا ۔ اس دوران ان کا پہلا شعری مجموعہ بند قبا شائع ہوا۔ محسن نقوی شاعری میں شفقت کاظمی اور عبدالحمید عدم کی سرپرستی میں رہے۔اردو شاعری میں محسن نقوی کی حیثیت نمایاں ہے تاہم مرثیہ ان کا خاص موضوع تھا۔محسن نقوی ڈیرہ غازی خان کے ہفت روزہ ہلال کیلئے کالم بھی تحریر کرتے تھے۔

مزید برآں محسن نقوی نے ملتان سے شائع ہونے والے روزنامہ امروز کیلئے بھی بطور کالم نگار خدمات سرانجام دیں۔ واضح رہے کہ محسن نقوی پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے اور انہوں نے سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے لیے نظم بھی تحریر کی جو زبان زد عام ہوئی ۔ حکومت کی جانب سے محسن نقوی کو 1994 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔محسن نقوی کی مشہور تصانیف میں بند قبا، برگ صحرا، ریزہ حرف، موج ادراک، ادائے خواب، عذاب دید، طلوع اشک، رخت شب، خیمہ جاں، میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی اور فرات فکر شامل ہیں۔اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کئے ہیں اور محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔

محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انھوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی نے واقعہ کربلا کے حوالہ سے جو شاعری کی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے ۔اپنی لازوال شاعری سے مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والے محسن نقوی 15 جنوری 1996 کو لاہور میں ایک قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی ، ادبی،سیاسی اورصحافتی حلقوں کی جانب ان کی خدمات کے اعتراف میں بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔