مستند، جامع ، معلومات افزا تحریروں اور فیچر نگاری میں منفرد پہچان کے حامل صحافی ریاض بٹالوی کی برسی جمعرات کو منائی گئی

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):مستند، جامع ، معلومات افزا تحریروں اور فیچر نگاری میں منفرد پہچان کے حامل صحافی ریاض بٹالوی کی برسی جمعرات 15 جنوری کو منائی گئی۔ریاض بٹالوی 5 فروری 1937کو بٹالہ ضلع گوردسپور میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا اصل نام ریا ض الحسن تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ گجرات منتقل ہو گئے۔ریاض بٹالوی روزنامہ مشرق اور کوہستان سے وابستہ رہے۔ …

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):مستند، جامع ، معلومات افزا تحریروں اور فیچر نگاری میں منفرد پہچان کے حامل صحافی ریاض بٹالوی کی برسی جمعرات 15 جنوری کو منائی گئی۔ریاض بٹالوی 5 فروری 1937کو بٹالہ ضلع گوردسپور میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا اصل نام ریا ض الحسن تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ گجرات منتقل ہو گئے۔ریاض بٹالوی روزنامہ مشرق اور کوہستان سے وابستہ رہے۔

انہوں نے مختلف اخبارات کے لیے کالم اور فیچر تحریر کئے تاہم رونامہ مشرق کے ساتھ ان کا تعلق 30 سال سے زائد عرصہ تک قائم رہا۔ ریاض بٹالوی کا شمار پاکستان کے مشہور فیچر رائٹرز میں ہوتا ہے۔ ان کے فیچرز کو پاکستان ٹیلی وژن نے ڈرامائی تشکیل دے کر ایک حقیقت ایک فسانہ کے نام سے پیش کیا۔ اس سلسلے کے تمام ڈرامے بے حد مقبول ہوئے جن میں روبی کس کی بیٹی ہے، دبئی چلو، سناٹا، وہی منزلیں وہی راستے، عکس اور آئینے، وارث، تلاش اور خلش کے نام سرفہرست ہیں۔

ریاض بٹالوی کو 14 اگست 1986 کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ ریاض بٹالوی 15 جنوری 2003 کو لاہور میں انتقال کر گئے اور وہ مومن پورہ کے قبرستان میں سپر خاک ہوئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی، صحافتی حلقوں اور شو بز انڈسٹری کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔