پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن اور ری نیو ایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد کا آصف جاوید کی قیادت میں آئی سی سی آئی کا دورہ

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن (پی اے ای اے )اور ری نیو ایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے آٹھ رکنی وفد نے آصف جاوید کی قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا دورہ کیا اور صدر سردار طاہر محمود سے تفصیلی ملاقات کی تاکہ انہیں نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ تبدیلیوں کے بعد توانائی کے شعبے کو لاحق …

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن (پی اے ای اے )اور ری نیو ایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے آٹھ رکنی وفد نے آصف جاوید کی قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا دورہ کیا اور صدر سردار طاہر محمود سے تفصیلی ملاقات کی تاکہ انہیں نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ تبدیلیوں کے بعد توانائی کے شعبے کو لاحق چیلنجز سے آگاہ کیا جا سکے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے وفد کو چیمبر کے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ آئی سی سی آئی اس مسئلے کو تمام متعلقہ فورمز پر اٹھا کر فعال وکالت کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی میں اچانک یا بغیر مشورے سے تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر سکتی ہیں، روزگار پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور صاف توانائی کو اپنانے کی رفتار کو کم کر سکتی ہیں جو کہ اقتصادی استحکام کے لئے بہت ضروری ہے۔

انہوں نے پالیسی کے تسلسل، شفافیت اور قومی اقتصادی مفادات کا تحفظ کرنے والے متوازن نقطہ نظر کو یقینی بنانے کے لئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور نائب صدر عرفان چوہدری نے اپنے ریمارکس میں متعلقہ ایسوسی ایشنز کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کی تائید کی اور اس بات کو اجاگر کیا کہ قابل تجدید توانائی قومی گرڈ پر دباؤ کو کم کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں کلیدی کردار کے طور پر ابھری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کا تحفظ اور شمسی توانائی اور اس سے منسلک صنعتوں کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانا روزگار کی تخلیق اور طویل مدتی توانائی کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی آئی ایک مستحکم اور کاروباری دوستانہ توانائی پالیسی کے فریم ورک کو فروغ دینے کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔قبل ازیں پی اے ای اے کے چیئرمین آصف جاوید نے نیٹ میٹرنگ کو ایک موثر پالیسی میکانزم کے طور پر برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جو بجلی کے نظام پر اضافی لاگت عائد کیے بغیر تقسیم شدہ شمسی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو اس کے بجائے بنیادی مسائل جیسے کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات، ریکوری ریٹ، ٹرانسمیشن سسٹم کی رکاوٹوں اور دیگر ساختی خرابیوں کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے جو پاور سیکٹر میں لاگت میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے آئی پی پیز کے موثر انتظام اور تمام متعلقہ فورمز سے نقصانات کی وصولی پر بھی زور دیا۔

ری نیوایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین طیب نیاز نے کہا کہ ہم ملک کے بہترین مفاد میں جنریشن مینجمنٹ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سے متعلق مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔وفد نے آئی سی سی آئی کی قیادت کا ان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ چیمبر کی بروقت مداخلت سے صنعت کے خدشات کو دور کرنے میں مدد ملے گی ۔ اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سابق صدر محمد اعجاز عباسی، ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، محسن خالد ملک، راجہ نوید ستی، آئی سی سی آئی کے ممبر اسرار الحق مشوانی اور دیگر بھی موجود تھے۔