اقوام متحدہ ۔19جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان ایک ایسی کھائی میں دھنستا جا رہا ہے جس کے اثرات ناقابل تصورہیں۔ پانچ روزہ دورۂ سوڈان کے بعد کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ سوڈان میں لڑائی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے انسانی حقوق کو …
سوڈان ایسی کھائی میں گررہا ہے جس کے اثرات ناقابل تصورہیں، اقوام متحدہ کا انتباہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔19جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان ایک ایسی کھائی میں دھنستا جا رہا ہے جس کے اثرات ناقابل تصورہیں۔ پانچ روزہ دورۂ سوڈان کے بعد کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ سوڈان میں لڑائی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے، سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان لڑائی شروع ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں اور ہمارے سامنے ظلم و بربریت کی ایک داستان رقم ہو رہی ہے۔انہوں نے تمام بااثر فریقوں بالخصوص علاقائی کرداروں اور ان عناصر سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا تاکہ تنازع کو ختم کیا جا سکے۔
وولکر ترک نے کہا کہ اگرچہ دونوں عسکری دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی نے پورے ملک اور اس کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے تاہم امن، انصاف اور آزادی کے لیے جدوجہد کی روح ابھی ٹوٹی نہیں۔انہوں نے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جن میں مروے ڈیم اور پن بجلی گھر بھی شامل ہیں جو کبھی ملک کی 70 فیصد بجلی فراہم کرتے تھے۔ ان پر آر ایس ایف کی جانب سے ڈرون حملے کیے گئے، جنہیں سنگین خلاف ورزیاں اور ممکنہ جنگی جرائم قرار دیا گیا۔انہوں نے دونوں فریقین سے مطالبہ کیا کہ شہری آبادی کے لیے ناگزیر تنصیبات جیسے بازاروں، طبی مراکز، سکولوں اور پناہ گاہوں پر حملے بند کیے جائیں۔انہوں نے جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کو ’’وسیع اور منظم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے جسموں کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جو واضح جنگی جرم ہے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔انہوں نے خبردار کیا کہ الفاشر میں ہونے والے مظالم کے دہرانے کا خدشہ کوردوفان کے علاقوں میں بڑھ رہا ہے، جہاں اکتوبر کے اواخر سے لڑائی میں شدت آئی ہے، جبکہ کادوگلی میں قحط جیسی صورتحال اور دیگر علاقوں میں بھی قحط کا خطرہ موجود ہے۔وولکر ترک نے جدید ہتھیاروں، خصوصاً ڈرونز، کے پھیلاؤ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی تکالیف کم کرنے کے بجائے مہلک اسلحے پر بھاری رقوم خرچ ہونا افسوسناک ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے جنگ میں ملوث فریقوں سے شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کے تحفظ، محفوظ انخلا کے راستوں کی ضمانت، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، قیدیوں کے انسانی سلوک، لاپتہ افراد کی معلومات اور مبینہ ’’تعاون‘‘ کے الزام میں زیرِ حراست شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ایک بار پھر اپیل کی کہ تمام فریق ذاتی مفادات اور طاقت کی کشمکش ترک کر کے سوڈانی عوام کے مشترکہ مفاد کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کو جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی بنیاد بنانا مشکل ضرور ہے مگر سوڈانی عوام کے حوصلے کے ساتھ یہ ناممکن نہیں ہے ۔








