کمبوڈیا میں سرحدی تنازع سے متاثرہ بچوں کی مدد کے لیے یونیسف اور مقامی ٹیلی کام کمپنی کا اشتراک

نوم پنہ۔19جنوری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کمبوڈیا اور مقامی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اسمارٹ ایکسیاتا نے تھائی لینڈ کے ساتھ حالیہ سرحدی تنازع سے متاثرہ بچوں کی مدد کے لیے شراکت داری قائم کر لی ہے۔شنہوا کے مطابق اس حوالے سے پیر کو جاری مشترکہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ ایک سالہ ہنگامی منصوبہ ہے جس کا مقصد متاثرہ بچوں اور ماؤں کی صحت …

نوم پنہ۔19جنوری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کمبوڈیا اور مقامی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اسمارٹ ایکسیاتا نے تھائی لینڈ کے ساتھ حالیہ سرحدی تنازع سے متاثرہ بچوں کی مدد کے لیے شراکت داری قائم کر لی ہے۔شنہوا کے مطابق اس حوالے سے پیر کو جاری مشترکہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ ایک سالہ ہنگامی منصوبہ ہے جس کا مقصد متاثرہ بچوں اور ماؤں کی صحت اور تعلیم کا تحفظ کرنا ہے۔پریس ریلیز کے مطابق تنازع کے عروج کے دوران سات صوبوں میں 6 لاکھ سے زائد کمبوڈیائی شہری بے گھر ہوئے، جن میں 2 لاکھ سے زیادہ بچے اور 3 لاکھ خواتین شامل تھیں۔

کمبوڈیا میں یونیسف کے نمائندے وِل پارکس نے کہا کہ کسی بھی بحران کی صورت میں بچے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بحران کے دوران بھی بچے تعلیم جاری رکھ سکیں اور بقا و نشوونما کے لیے ضروری غذائیت حاصل کر سکیں۔منصوبے کے تحت پانچ سال سے کم عمر 10 ہزار سے زائد بچوں میں غذائی قلت کی فوری جانچ کی جائے گی، شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج فراہم کیا جائے گا، جبکہ ہنگامی حالات میں شیر خوار اور کم عمر بچوں کی خوراک سے متعلق 9,500 سے زائد دیکھ بھال کرنے والوں کو مشاورت دی جائے گی۔اس کے علاوہ عارضی پناہ گاہوں میں مقیم 2 ہزار پرائمری طلبہ کو گھریلو تعلیمی پیکجز اور 5 ہزار کم عمر بچوں کو ابتدائی نشوونما کی خصوصی کٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ کھیل اور تعلیم کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

اسمارٹ ایکسیاتا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریتیش کمار سنگھ نے کہا کہ یونیسف کمبوڈیا کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بچوں کو تعلیم، غذائیت اور تحفظ کی فوری ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بچے کو پیچھے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان تین ہفتوں تک جاری مسلح تنازع کے بعد 27 دسمبر 2025 کو فوری جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا تھا۔کمبوڈیا کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اب تک تقریباً 5 لاکھ 10 ہزار بے گھر شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں، تاہم 1 لاکھ 33 ہزار 70 افراد تاحال بے گھری کے کیمپوں میں مقیم ہیں۔

C