حکومت قومی معیشت کے تمام شعبوں میں مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ کیلئےپُرعزم ہے ،بلال اظہرکیانی

اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور وزیراعظم ڈیلیوری یونٹ کے سربراہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت قومی معیشت کے تمام شعبوں میں مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ کیلئےپُرعزم ہے تاکہ آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کیا جا سکے اور پائیدار و طویل المدتی اقتصادی ترقی اور سماجی خوشحالی حاصل کی جا سکے۔یہ بات انہوں نے تمباکو کی صنعت میں ٹریک اینڈ …

اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور وزیراعظم ڈیلیوری یونٹ کے سربراہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت قومی معیشت کے تمام شعبوں میں مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ کیلئےپُرعزم ہے تاکہ آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کیا جا سکے اور پائیدار و طویل المدتی اقتصادی ترقی اور سماجی خوشحالی حاصل کی جا سکے۔یہ بات انہوں نے تمباکو کی صنعت میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی تعمیل کے موضوع پر ایک پالیسی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

یہ تقریب انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس میں ادارے کی جانب سے ملک گیر مطالعے کے نتائج پیش کئے گئے۔ آئی پی او آر کی جانب سے ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق اس تقریب میں پالیسی سازوں، محققین اور ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور مطالعے کے نتائج اور ان کی ٹیکس آمدن، مارکیٹ ریگولیشن اور عوامی صحت پر اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر مملکت نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مقاصد کے حصول کیلئے مؤثر نفاذ، بہتر ریگولیٹری اقدامات اور ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے،مطالعے میں سفارش کی گئی کہ خوردہ سطح پر زمینی حقائق کے مطابق نفاذ کو مضبوط بنایا جائے اور مالیاتی و انتظامی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے۔

اس میں غیر قانونی تجارت کے خاتمے کے لیے نفاذی اقدامات کے ساتھ ساتھ قیمتوں اور ٹیکس پالیسی کے مؤثر استعمال کی بھی سفارش کی گئی۔مطالعے کے نتائج اور ہونے والی گفتگو کو ریگولیٹری تعمیل میں بہتری، ٹیکس وصولی کے نظام کو مضبوط بنانے اورعوامی صحت کے اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔تقریب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ شواہد پر مبنی مکالمہ پاکستان میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مؤثر نفاذ کے لیے انتہائی اہم ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے رجسٹرار اور مالیاتی پالیسی کے ماہر ڈاکٹر ناصر اقبال نے مالی نظم و ضبط اور ریگولیٹری گورننس کے تناظر میں مطالعے کے نتائج پر گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل عدم تعمیل دراصل ادارہ جاتی ہم آہنگی کے گہرے مسائل کی عکاسی کرتی ہے اور نفاذی نظام کو وسیع تر مالیاتی اور حکمرانی اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔پی آئی ڈی ای کی اسسٹنٹ چیف (پالیسی) مہویش ممتاز نے مطالعے کے پالیسی مضمرات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کمزور تعمیل نہ صرف محصولات کی وصولی بلکہ عوامی صحت کے اہداف کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی مقاصد کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی ریگولیٹری اقدامات ضروری ہیں۔ریگولیٹری ردعمل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر جاوید اقبال نے پیش کیاجنہوں نے نفاذ اور تعمیل کے موجودہ نظام پر بریفنگ دی۔انہوں نے تمباکو کے شعبے میں نگرانی کو مضبوط بنانے، نظام کی شفافیت بہتر کرنے اور غیر قانونی تجارت سے نمٹنے کے لیے ایف بی آر کی جاری کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔