اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متنازعہ ٹویٹ سے متعلق کیس میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور 72 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ہفتہ کو عدالت کی جانب سے جاری کردہ 22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (PECA) کی مختلف شقوں کے تحت الگ …
متنازع ٹویٹ کیس ، ایمان مزاری اورہادی علی چٹھہ کو 17 17،سال قید، 72 ملین روپے جرمانے کی سزا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متنازعہ ٹویٹ سے متعلق کیس میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور 72 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ہفتہ کو عدالت کی جانب سے جاری کردہ 22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (PECA) کی مختلف شقوں کے تحت الگ الگ سزائیں سنائیں اور دونوں مجرموں پر بھاری جرمانہ عائد کیا۔
فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دونوں کو پی ای سی اے کی دفعہ 9 کے تحت پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ قید کی سزا کے ساتھ ساتھ عدالت نے اس دفعہ کے تحت ہر ملزم پر 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ عدالت نے دونوں افراد کو قانون کی دفعہ 10 کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی۔اسی دفعہ کے تحت 30 ملین روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔مزید برآں عدالت نے دونوں مجرموں کو دفعہ 26-A کے تحت دو سال قید اور 10 لاکھ روپے اضافی جرمانے کی سزا سنائی۔
تمام سزاؤں کو ملا کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دونوں کو مجموعی طور پر17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی جب کہ دونوں پر مجموعی طور پر 72 ملین روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔تحریری حکم ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے جاری کیاجس میں کیس میں لاگو سزاؤں اور قانونی دفعات کی تفصیل دی گئی۔ قبل ازیں سماعت کے دوران پراسیکیوٹر بیرسٹر فہد، ریاستی وکیل اور گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم انٹرنیٹ ایشو کے باعث ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔
اڈیالہ جیل حکام کی درخواست پر عدالت نے 20 منٹ کا وقفہ دے دیا۔ وقفے کے بعد دونوں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ جج نے پوچھا کہ کیا جرح شروع ہو گی؟ اس موقع پر دونوں ملزمان نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ سماعت ختم ہونے سے پہلے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے ویڈیو لنک چھوڑ دیا۔جج افضل مجوکا نے عدالتی عملے کو ہدایت کی کہ تمام کارروائی کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔ وکیل صفائی اشرف گجر نے عدالت سے ملزم کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی استدعا کی۔جج نے جواب دیا کہ وہ آن لائن حاضر ہوئے تھے، نوٹ کیا کہ پورا ریکارڈ دستیاب ہے، اور کہا کہ درخواست پر تحریری حکم جاری کیا جائے گا۔








