اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل نے افغانستان میں مبینہ طور پر شریعت کے نام پر معاشرے کو مختلف سماجی طبقات میں تقسیم کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ اور اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔ پاکستان علماء کونسل کی جانب سے اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت …
پاکستان علماء کونسل کا افغانستان میں مبینہ سماجی تفریق پر اظہارِ تشویش

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل نے افغانستان میں مبینہ طور پر شریعت کے نام پر معاشرے کو مختلف سماجی طبقات میں تقسیم کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ اور اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔
پاکستان علماء کونسل کی جانب سے اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں علمائے کرام بشمول مولانا نعمان حاشر، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا حافظ مقبول احمد، علامہ طاہرالحسن، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا محمد اشفاق پتافی اور دیگر نے خبردار کیا کہ اسلام کے نام پر معاشرے کو ’’آزاد‘‘ اور ’’غلام‘‘ جیسے طبقات میں تقسیم کرنے کی کوئی گنجائش نہ قرآن میں ہے اور نہ ہی سنتِ نبوی ﷺ میں۔علماء نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی درجہ بندی اسلامی تعلیمات سے قطعی طور پر متصادم ہے اور اس کا تعلق قبل از اسلام یا غیر اسلامی سماجی نظاموں سے جا ملتا ہے، جہاں انسانوں کو پیدائش، حیثیت یا نسل کی بنیاد پر مختلف طبقات میں بانٹا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد ہر قسم کی غلامی اور نسلی و طبقاتی برتری کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان علماء کونسل نے افغان طالبان حکام جو خود کو اسلامی اور شریعت پر مبنی حکومت قرار دیتے ہیں، سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات پر فوری طور پر اپنا واضح مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھیں۔ کونسل نے اسلام کے نام پر دورِ جاہلیت سے وابستہ رسوم و روایات کے احیاء کے خلاف سخت تنبیہ بھی کی۔
بیان میں کہا گیا کہ اسلام نے جاہلیت کے ان تمام رسم و رواج کا خاتمہ کر دیا تھا جن میں انسانوں کو غلام بنایا جاتا، خواتین کے حقوق سلب کیے جاتے اور معاشرے کو سخت طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا تھا۔ علماء نے رسول اکرم ﷺ کے اس تاریخی فرمان کی یاد دہانی کرائی کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔پاکستان علماء کونسل نے خبردار کیا کہ اس طرح کے مبینہ اقدامات نہ صرف اسلام کے اصولِ مساوات اور عدل کو مجروح کرتے ہیں بلکہ انسانی وقار کی توہین کے مترادف بھی ہیں۔
کونسل کے مطابق ایسے احکامات کو شریعت کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا بلکہ یہ جدید دور کی جاہلیت کی عکاسی کرتے ہیں۔کونسل نے افغان حکام سے اپیل کی کہ وہ اسلام کی حقیقی روح جو مساوات، انصاف اور انسانی عزت و وقار پر مبنی ہے، کو ملحوظ خاطر رکھیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی پالیسی یا فیصلہ قرآن و سنت کی آفاقی اور ابدی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔








