غربت کے خاتمے کے لیے 39 ارب روپے کا نیا پاورٹی گریجویشن پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):وزارت برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ نے 39 ارب روپے کا نیا پاورٹی گریجویشن پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد مستحق خاندانوں کو نقد امداد سے پائیدار معاش کی طرف منتقل کرنے کی پاکستان کی کوششوں کو وسعت دینا ہے۔2026 سے 2029 تک چلنے والے چار سالہ پروگرام کو ملک بھر کے 25 اضلاع میں لاگو کیا جائے گا جس میں …

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):وزارت برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ نے 39 ارب روپے کا نیا پاورٹی گریجویشن پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد مستحق خاندانوں کو نقد امداد سے پائیدار معاش کی طرف منتقل کرنے کی پاکستان کی کوششوں کو وسعت دینا ہے۔2026 سے 2029 تک چلنے والے چار سالہ پروگرام کو ملک بھر کے 25 اضلاع میں لاگو کیا جائے گا جس میں شفافیت، جوابدہی اور بھر پور نتائج پر توجہ دی جائے گی۔

وزارت نے چاروں صوبوں کے 21 پسماندہ اضلاع میں نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کی کامیاب تکمیل کا بھی انکشاف کیا ہے جس نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے کمزور خاندانوں کو باوقار اور پائیدار آمدنی کے ذرائع میں منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی ہے۔ وزارت کے مطابق مکمل ہونے والے پروگرام کے تحت مستفید ہونے والوں کو پیداواری اثاثے، بلا سود قرضے، روزی روٹی کمانے کی تربیت اور ہنر کی ترقی فراہم کی گئی جس کے نتیجے میں روزگار کے 179,000 نئے مواقع پیدا ہوئے جب کہ 96,000 خاندان مستقل طور پر غربت سے نکل گئے۔

وزارت نے کہا ہے کہ نئے اقدام کی نگرانی آزادانہ جانچ، تیسرے فریق کے آڈٹ اور ایک موثر شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے کی جائے گی تاکہ ساکھ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔پاکستان بیورو آف شماریات کے ساتھ مل کر، وفاقی اور صوبائی سطحوں پر رپورٹنگ، شفافیت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کوریج کو ملک بھر میں ایک کروڑ خاندانوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔

جاری ڈائنامک رجسٹری سروے کے تحت 40 لاکھ خاندان مالی بہتری کے بعد کفالت پروگرام سے نکل چکے ہیں جبکہ 3.6 ملین نئے اہل خاندانوں کو شامل کیا گیا ہے۔وزیر اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل والیٹس کے ذریعے ادائیگیاں شروع کی گئی ہیں جس سے شفافیت میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ پیسے کے ضیاع کو کم کیا گیا ہے اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔اسی طرح پاکستان بیت المال نے اپنے انفرادی مالی امداد کے نظام کو بھی ڈیجیٹائز کیا ہے اور یتیموں، خواتین، معذور افراد اور مزدوروں کی امداد میں اضافہ کیا ہے۔

احتساب کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بائیو میٹرک ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ وزارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وسیع پیمانے پر اصلاحات نے قابل تصدیق نتائج پیدا کیے ہیں، عوامی اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ غریب اور کمزور خاندانوں کو وقار، شفافیت اور جوابدہی کے ساتھ امداد مل رہی ہے۔وزارت نے سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید وسعت دینے اور معاشرے کے مستحق طبقات تک جامع تعاون کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

مزید خبریں