کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں وائٹ کوٹ تقریب کا انعقاد

لاہور۔26جنوری (اے پی پی):کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں پاکستان کی ٹاپ میرٹ فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس طلبا کی166 ویں وائٹ کوٹ تقریب اور اوریئنٹیشن کا انعقادہوا۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے طلبا سے خدمت انسانیت کا حلف لیا۔ اس موقع پر نئے داخل ہونے والے ایم بی بی ایس کے طلبہ و طالبات (سیشن 2025-2026) کو خوش آمدید …

لاہور۔26جنوری (اے پی پی):کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں پاکستان کی ٹاپ میرٹ فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس طلبا کی166 ویں وائٹ کوٹ تقریب اور اوریئنٹیشن کا انعقادہوا۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے طلبا سے خدمت انسانیت کا حلف لیا۔ اس موقع پر نئے داخل ہونے والے ایم بی بی ایس کے طلبہ و طالبات (سیشن 2025-2026) کو خوش آمدید کہا گیا، جس میں طلبہ کو طب کے مقدس پیشے میں داخلے کی علامت کے طور پر وائٹ کوٹ پہنایا گیا۔ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایازنے بطور گیسٹ آف آنر شرکت کی۔ صوبائی وزیر صحت نے وائٹ کوٹ تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اس تاریخی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں موجود ہونا میرے لئے باعثِ مسرت ہے۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا شمار پاکستان کے بہترین طبی اداروں میں ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ہزاروں ڈاکٹروں کو تیار کر چکا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ میری دلی خواہش ہے کہ جب آپ اپنی ڈگری مکمل کریں تو صرف اچھے ڈاکٹر ہی نہ بنیں بلکہ ذمہ دار، دیانت دار اور ہمدرد انسان بھی بنیں۔ آپ ایسے ڈاکٹر بنیں جو اپنے والدین، ادارے اور ملک کے لئے باعثِ فخر ہوں۔ آج جو سفید کوٹ آپ پہن رہے ہیں، وہ محض ایک یونیفارم نہیں بلکہ علم، اعتماد، ذمہ داری اور انسانیت کی خدمت کی علامت ہے۔ ہمیشہ اپنے مریضوں کے ساتھ احترام، شفقت، دیانت داری اور ہمدردی سے پیش آئیں ۔حکومتِ پنجاب صحت اور طبی تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

وزیرِ اعلی مریم نواز کی قیادت میں صحت کو حکومت کی اولین ترجیح بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں کئی اہم اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے جن میں وزیرِ اعلی کا بچوں کے دل کے آپریشن کا پروگرام، گردوں اور جگر کے علاج کے پروگرام، بون میرو ٹرانسپلانٹس، کوکلیئر امپلانٹس اور قرنیہ (آنکھ) کی پیوندکاری شامل ہیں۔ ڈائیلاسس اور فالج کے علاج کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پنجاب بھر کے ہسپتالوں کی تزئین و آرائش اور بہتری کا کام جاری ہے۔کارڈیالوجی اور جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور بھی فعال ہو جائیں گے۔ ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں برن یونٹس اور چلڈرن ہسپتال قائم کیے جائیں گے، لاہور میں میڈیکل ڈسٹرکٹ کو ترقی دی جا چکی ہے اور گوجرانوالہ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بہت جلد کام شروع کر دے گا۔ میو ہسپتال کی وسیع پیمانے پر بحالی عوامی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ہمارے مضبوط عزم کی عکاس ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ میو ہسپتال میں سرجیکل ٹاور میاں شہباز شریف کے دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا، جس سے جراحی خدمات میں نمایاں بہتری آئی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامیہ کی مسلسل کوششوں کو دل سے سراہتا ہوں۔ آپ کا سفید کوٹ ہمیشہ دیانت، لگن، انسانیت اور ہمدردی کی علامت رہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز کا وائٹ کوٹ تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ کوٹ صرف ایک لباس نہیں بلکہ یہ خدمتِ انسانیت، پیشہ ورانہ دیانت داری اور اخلاقی اقدار کی علامت ہے۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اپنے طلبہ کو نہ صرف اعلی معیار کی طبی تعلیم فراہم کرتی ہے بلکہ انہیں انسانیت کی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار کرتی ہے۔1860 میں قائم ہونے والی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی ٹاپ میرٹ 96.7% برقرار رکھا۔تقریب میں پروفیسر محمد معین (پرو وائس چانسلر و ڈین سرجری اینڈ الائیڈ سائنسز)، پروفیسر سید اصغر نقی (رجسٹرار)، اور یونیورسٹی کے ڈینز نے بھی شرکت کی۔پروفیسر ڈاکٹر علی مدیحہ ہاشمی (سائیکاٹری)، اور پروفیسر ڈاکٹر امیر افضل (ہاسٹل وارڈن) اس موقع پر موجود تھے۔