پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا میڈکل اور ڈینٹل کالجوں کے معائنے اور تسلیم کرنے کے عمل پر اٹھائے گئے سوالات پر مبنی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے وضاحتی بیان

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی ) نے میڈکل اور ڈینٹل کالجوں کے معائنے اور تسلیم کرنے کے عمل پر اٹھائے گئے سوالات پر مبنی میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ پی ایم اینڈ ڈی سی اپنے قیام سے لے کر اب تک شفاف طور سے، …

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی ) نے میڈکل اور ڈینٹل کالجوں کے معائنے اور تسلیم کرنے کے عمل پر اٹھائے گئے سوالات پر مبنی میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ پی ایم اینڈ ڈی سی اپنے قیام سے لے کر اب تک شفاف طور سے، قانون کے تحت اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق کام کر رہا ہے ، اس حوالے سے میڈیا میں رپورٹ ہونے والی خبریں گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔ پیر کو جاری تفصیلی وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ زیرگردش خبروں میں اہم قانونی اور طریقہ کار سے متعلق حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے جس کے باعث ریگولیٹری ناکامی کا ایک غیر ضروری اور غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 2019–20 کے دوران 15 میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی اس وقت کے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کی جانب سے غیر قانونی طور پر عارضی منظوری دی گئی جو متعلقہ قانونی اور ریگولیٹری تقاضوں کی صریح خلاف ورزی تھی۔ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ازسر نو قائم ہونے والی پی ایم ڈی سی کونسل نے اصلاحی اور منصفانہ اقدام کے طور پر ان اداروں میں مزید طلبہ کے داخلوں کو فوری طور پر معطل کر دیا، تاوقتیکہ معائنہ مکمل اور حتمی فیصلہ کیا /ہو جائے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کے مفادات کا تحفظ اور ریگولیٹری نظم و ضبط کی بحالی تھا۔ اسی دوران وزارت قومی صحت و خدمات نے بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھیج دیا۔

اس عرصے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کی انکوائری کے نتائج سے مشروط پی ایم ڈی سی کو معائنہ کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ معائنہ کے آغاز سے قبل پی ایم ڈی سی نے اس امر کو یقینی بنایا کہ تمام قانونی، مالی اور دیگر لازمی (ضابطہ) کے تقاضے مکمل کیے جائیں۔ 15 کالجز میں سے 11 کا گزشتہ دو برسوں میں باقاعدہ معائنہ کیا جا چکا ہے، ایک کالج کے معائنہ کا شیڈول طے کیا جا رہا ہے جبکہ تین کالجز کا معائنہ تاحال صرف اس لیے نہیں ہو سکا کہ وہ بارہا مواقع دیئے جانے کے باوجود لازمی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ ادارے مقررہ لازمی تقاضے پورے کرنے کے بعد اسی یکساں، شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے تحت معائنہ کے اہل ہوں گے جو تمام اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہے لہٰذا امتیازی سلوک یا من مانی کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت تعلیمی اداروں کی منظوری کے نوٹیفکیشن وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت جاری کرتی ہے اور یہ عمل پی ایم ڈی سی کے انتظامی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ جن کالجز نے معائنہ کامیابی سے مکمل کیا، ان کے کیسز قانون کے مطابق وزارت کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔ ایک کالج کو نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے جبکہ چھ کے معاملات تاحال زیر التواء ہیں۔ نوٹیفکیشن میں تاخیر کو پی ایم ڈی سی سے منسوب کرنا بھی حقائق کے منافی ہے۔

میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے انسپکشن کے عمل کی شفافیت اور ساکھ پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے معائنے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایکریڈیٹیشن اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں جن میں آزاد معائنہ ٹیمیں، معروضی جانچ کے معیارات اور قابلِ اصلاح نقائص کی صورت میں دوبارہ معائنہ کے مواقع شامل ہیں۔ بیشتر اداروں کا دوسرے مرحلے کے معائنے کے بعد اہل قرار پانا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کونسل نے معیار برقرار رکھا ہے، نہ کہ اسے کمزور کیا ہے۔ معائنہ میں بدعنوانی، سمجھوتے یا شفافیت کے فقدان کے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے پی ایم اینڈ ڈی سی نے معاملے کا باقاعدہ نوٹس لیا ہے۔ مبینہ طور پر ملوث ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں تاہم اس وقت عدالتی کارروائیاں جاری ہیں۔

رپورٹ کے برخلاف، معلومات چھپانے، اداروں کو سرکاری ریکارڈ سے نکالنے یا احتساب سے بچنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ دعوے بھی گمراہ کن ہیں کہ کالجز کو بغیر منظوری یا قانون کی خلاف ورزی کے طلبہ داخل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے جہاں بھی ضروری سمجھا، داخلوں پر پابندی عائد کی اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات کئے۔ بعض اداروں نے عدالتی احکامات کی بنیاد پر داخلے کیے ہیں تاہم بغیر قانونی منظوری کے کئے گئے تمام داخلے عدالتی جانچ اور اصلاحی ریگولیٹری کارروائی کے تابع ہیں۔اسی طرح غیر مناسب قانونی نمائندگی سے متعلق الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی تمام قانونی معاملات مجاز وکلاء کے ذریعے پوری ذمہ داری سے لڑ رہی ہے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

مزید یہ بھی واضح رہے کہ اگرچہ پی ایم اینڈ ڈی سی میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے کم از کم معیارات طے کرتی ہے تاہم متعلقہ الحاقی جامعات قانوناً اس بات کی پابند ہیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے ادارے ان معیارات پر پورا اتریں۔ اس طرح ریگولیٹری نگرانی ایک مشترکہ قانونی ذمہ داری ہے، نہ کہ صرف کونسل کی۔پی ایم اینڈ ڈی سی ایکٹ 2022 کے نفاذ کے بعد اور صدر پی ایم اینڈ ڈی سی پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کی قیادت میں کونسل نے اپنی ساکھ، شفافیت اور ادارہ جاتی سالمیت کی بحالی کے لیے نمایاں اور دیرپا اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔

ان اصلاحات میں عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی کے لیے 10 سالہ ڈبلیو ایف ایم ای (WFME) ایکریڈیٹیشن کا حصول، عالمی معیار سے ہم آہنگ اور اہلیت پر مبنی ایکریڈیٹیشن معیارات کا نفاذ، شفاف اور میرٹ پر مبنی معائنہ نظام اور لائسنسنگ، رجسٹریشن اور دیگر تمام درخواستوں کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں۔ ان اقدامات سے گورننس مضبوط ہوئی، صوابدیدی طریقہ کار کا خاتمہ ہوا اور ایک آزاد و معتبر ریگولیٹر کے طور پر پی ایم اینڈ ڈی سی پر عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

آخر میں پی ایم اینڈ ڈی سی کو غیر شفاف یا ریگولیٹری ناکامیوں میں شریک قرار دینا بے بنیاد اور حقائق کے سراسر منافی ہے۔ کونسل نے ہمیشہ قانون اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ذمہ دارانہ اور شفاف کردار ادا کیا ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار اور وقار کے تحفظ اور صرف ان اداروں کو کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے پُرعزم ہے جو مقررہ معیارات پر پورا اترتے ہوں تاکہ طلبہ، پیشے اور عوامی صحت کے بہترین مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔