آکسفورڈ اے کیو اے کا پاکستان میں قابلیت پر مبنی ، مستقبل دوست تعلیم کے فروغ کا عزم

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):آکسفورڈ اے کیو اے جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس (او یو پی )اور اے کیو اے، برطانیہ کے سب سے بڑے قابلیت فراہم کرنے والے سب سے بڑے ادارےجنرل سرٹیفکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن (جی سی ایس ای)کا اشتراک ہے نے اسلام آباد میں آکسفوڈ اے کیو اے سکول لیڈرز سمٹ 2026 کا انعقاد کیا جس کا مقصد پاکستان میں قابلیت پر مبنی مستقبل دوست تعلیم کے فروغ …

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):آکسفورڈ اے کیو اے جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس (او یو پی )اور اے کیو اے، برطانیہ کے سب سے بڑے قابلیت فراہم کرنے والے سب سے بڑے ادارےجنرل سرٹیفکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن (جی سی ایس ای)کا اشتراک ہے نے اسلام آباد میں آکسفوڈ اے کیو اے سکول لیڈرز سمٹ 2026 کا انعقاد کیا جس کا مقصد پاکستان میں قابلیت پر مبنی مستقبل دوست تعلیم کے فروغ کا عزم ہے۔ سمٹ میں شعبہ تعلیم سے وابستہ رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی جہاں قابلیت پرمبنی تعلیمی مستقبل کےلئے ضروری مہارتوں ، تشخیص اور سیکھنے کے نئے تصورات پر غور کیا گیا۔ تقریب میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ تشخیصی نظام کس طرح طلبہ کو جدید دنیا کے تقاضوں کے لئے بہتر طور پر تیار کر سکتا ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید حسین نے ’’ توجہ کا رخ موڑنا۔قابلیت پرمبنی تعلیم کے مو ضوع پر خطاب کیا۔

انہوں نے رٹے پر مبنی نظام تعلیم سے آگے بڑھنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور برطانیہ میں قابلیتیں دینے والے سب سے بڑے ادارے اے کیو اے کے درمیان یہ تعاون ہمارے طالب علموں کو مہارت اور قیمتی تجربہ فراہم کرے گا، جو انہیں مستقبل کے لیے درکار صلاحیتوں سے آراستہ کرکے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے قابل بنائے گا۔ آکسفورڈ اے کیو اے ان تمام طالب علموں کے لیے ہے، جو تعلیم میں شفافیت اور معیار چاہتے ہیں۔ آکسفورڈ اے کیو اے کے ذریعے ہمارے طلباء عالمی سطح پر نام روشن کریں گے، جس کے ہمارے تعلیمی منظر نامے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔تشخیص میں مہارتوں کے کردار کے حوالے سے منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئےڈپٹی ایجوکیشن ایڈوائزر وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر شعیبہ منصور نے کہا کہ آکسفورڈ اے کیو اے سکول لیڈرز سمٹ 2026 ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتاہے۔

تشخیص کو صرف یہ جانچنے تک محدود نہیں رہنا چاہئے کہ طلبہ کیا یاد رکھتے ہیں بلکہ اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کیسے سوچتے اور علم کو عملی طور پر استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں سکول لیڈرز کا کردار فیصلہ کن ہے کہ وہ بہتر تشخیص سے طلبہ کو نہ صرف امتحانات بلکہ اعلیٰ تعلیم، عملی زندگی اور مستقبل کے لئے بھی تیار کریں۔آکسفورڈ اے کیو اے کے منیجنگ ڈائریکٹر اینڈریو کومب نے ادارے کے عالمی مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آکسفورڈ اے کیو اے میں ہمارا مقصد ایسا تشخیصی نظام تیار کرنا ہے جو منصفانہ، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں پر مرکوز ہو۔ پاکستان میں ہمارا کام معیار بلند کرنے اور طلبہ کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔مصنوعی ذہانت پر مبنی سیشن سے خطاب میں ڈاکٹر الیگزینڈرا ٹومیسکو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو اگر ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیاجائے تو یہ سیکھنے کے عمل، تشخیص کے ڈیزائن اور اساتذہ کی معاونت کو بہتر بنا سکتی ہے۔

ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ ٹیکنالوجی سے تعلیمی دیانت داری اور سیکھنے کے نتائج کو مضبوط کیا جائے۔اینڈریو کومب نے دنیا بھر میں آکسفورڈ اے کیو اے کے طریقۂ کار کے اثرات پر عالمی تجربات اور مطالعاتی مثالیں پیش کیں۔ ڈائریکٹر آکسفورڈ اے کیو اے پاکستان سلمیٰ عادل نے کہا کہ پاکستان میں آکسفورڈ اے کیو اے سکولوں اور اساتذہ کی معاونت کر رہا ہے تاکہ ایسے تشخیصی طریقے اپنائے جا سکیں جو اعتماد، تنقیدی سوچ اور ایسی مہارتوں کو فروغ دیں جو آگے منتقل کی جا سکیں۔طلبہ کو مستقبل دوست مہارتوں سے بااختیار بنانے پر ایک پینل مباحثہ منعقد ہوا جس کی نظامت سینئر منیجر، پروفیشنل ڈیولپمنٹ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نیدہ ملجی نے کی۔ مباحثے میں ماہرین نے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے لئے طلبہ کی تیاری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ اختتام پر شرکاء کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔

آکسفورڈ انٹرنیشنل پروگرام کے حوالے سے میٹ میک گریگر کی پریزنٹیشن بھی پروگرام کا حصہ تھی جس میں ابتدائی تعلیم سے لے کر ثانوی تعلیم تک طلبہ کے لئے معاون تعلیمی راستوں پر روشنی ڈالی گئی۔ تقریب کے اختتام پر اینڈریو کومب نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ آکسفورڈ اے کیو اے کے طویل المدتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ، اداروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ تعاون ہی تعلیم کے مستقبل کی تشکیل کی کنجی ہے، ہم مل کر ہی اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ طلبہ نہ صرف امتحانات میں کامیاب ہوں بلکہ زندگی میں بھی ترقی کریں۔