سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی جانب سے مقررہ قانونی مدت سے تجاوز کے بعد جاری کیے گئے ٹیکس آرڈرز غیر قانونی قرار دے دیئے

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مقررہ قانونی مدت سے تجاوز کے بعد جاری کیے گئے ٹیکس آرڈرز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت شوکاز نوٹس کے بعد 120 دن کے اندر آرڈر پاس کرنا لازمی شرط ہے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں ایسی کارروائی …

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مقررہ قانونی مدت سے تجاوز کے بعد جاری کیے گئے ٹیکس آرڈرز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت شوکاز نوٹس کے بعد 120 دن کے اندر آرڈر پاس کرنا لازمی شرط ہے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں ایسی کارروائی قانوناً برقرار نہیں رہ سکتی۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تفصیلی تحریری فیصلہ کے مطابق جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے C.P.L.A نمبر 1990/2025 کی سماعت کے بعد ایف بی آر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔

کیس میں اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو راولپنڈی نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے 10 مارچ 2025 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ریجنل ٹیکس آفس راولپنڈی نے 15 نومبر 2023 کو جواب دہندہ عمر طارق خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں چار ملین روپے سے زائد کے مبینہ ناقابل قبول ان پٹ ٹیکس کی وصولی کا الزام عائد کیا گیا تاہم کارروائی کے نتیجے میں آرڈر ان اوریجنل 20 مارچ 2024 کو جاری کیا گیا جو کہ شوکاز نوٹس کی تاریخ سے مقررہ 120 دن کی قانونی مدت سے تجاوز تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس نکتے پر قانون پہلے ہی متعدد فیصلوں میں طے ہو چکا ہےجن میں کلیکٹر سیلز ٹیکس بنام سپر ایشیا، WAK لمیٹڈ اور عباسی انٹرپرائزز کے فیصلے شامل ہیں جن کے مطابق مقررہ مدت کے اندر آرڈر پاس نہ کرنے کی صورت میں ٹیکس کارروائی خود بخود غیر موثر ہو جاتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ان فیصلوں کی پابندی آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت ایف بی آر سمیت تمام سرکاری اداروں پر لازم ہے، اس کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے ایک بار پھر طے شدہ قانونی نکتے کو چیلنج کرنا افسوسناک ہے۔فیصلے میں سرکاری محکموں کی جانب سے بلاجواز اپیلیں دائر کرنے کے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز عمل سے نہ صرف عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے بلکہ عوامی وسائل کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاست کو ایک ذمہ دار فریق کے طور پر مقدمات لڑنے چاہئیں۔

سپریم کورٹ نے عندیہ دیا کہ آئندہ ایسے معاملات میں عدالتیں اپیلیں ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کر سکتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر اخراجات عائد کرنے کے ساتھ متعلقہ افسران کی ذمہ داری بھی متعین کی جا سکتی ہے۔عدالت نے چیئرمین ایف بی آر کو مشورہ دیا کہ اپیل دائر کرنے سے قبل آزاد اور بااختیار جانچ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن میں ریٹائرڈ جج، سینئر ٹیکس ماہرین اور تجربہ کار افسران شامل ہوں تاکہ پہلے سے طے شدہ قانونی معاملات پر غیر ضروری مقدمہ بازی سے بچا جا سکے۔عدالت نے ایف بی آر کی اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔