ترکیہ کے سفارتخانہ کا این بی ایف پاکستان اور یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر کے اشتراک سے قومی مضمون نویسی مقابلہ 2025 کی انعامی تقسیم کی تقریب کا انعقاد

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):ترکیہ کے سفارتخانہ نے نیشنل بک فاؤنڈیشن (این بی ایف) پاکستان اور یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر کے اشتراک سے قومی مضمون نویسی مقابلہ 2025 کی انعامی تقسیم کی تقریب کا انعقاد کیا ،جس میں ملک بھر کی جامعات کے طلباء و طالبات نے شرکت کی۔تقریب میں وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر ، سفیرِ جمہوریہ ترکیہ برائے پاکستان ڈاکٹر عرفان …

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):ترکیہ کے سفارتخانہ نے نیشنل بک فاؤنڈیشن (این بی ایف) پاکستان اور یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر کے اشتراک سے قومی مضمون نویسی مقابلہ 2025 کی انعامی تقسیم کی تقریب کا انعقاد کیا ،جس میں ملک بھر کی جامعات کے طلباء و طالبات نے شرکت کی۔تقریب میں وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر ، سفیرِ جمہوریہ ترکیہ برائے پاکستان ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو ، منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن ڈاکٹر کامران جہانگیر ، اعلیٰ سرکاری حکام، تعلیمی و ثقافتی اداروں کے نمائندگان، اساتذہ، والدین اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیرِ ترکیہ ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو نے کہا کہ اس مضمون نویسی مقابلے کے انعقاد کے دو بنیادی مقاصد تھے، ایک پاکستان اور ترکیہ کے درمیان صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات کا جشن منانا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا جبکہ دوسرا دو ترک انجینئرز چنک یاکن اور اوفوک ارسلان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرناتھا جو 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بالاکوٹ میں امدادی مشن کے دوران شہید ہوئے۔ سفیرِ ترکیہ نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس صدرِ جمہوریہ ترکیہ رجب طیب اردوان کے تاریخی دورہ اسلام آباد کے دوران دونوں ممالک نے سماجی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے ’’شوریٰ اخوت‘‘کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقابلہ اسی وژن کی عملی مثال ہے۔ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو نے پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ ہیروز اور عظیم شخصیات جن میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، تحریکِ خلافت کے علی برادران اور عبدالرحمن پشاورى شامل ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس مشترکہ ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام شریک طلباء اور کامیاب امیدواروں کو ان کی محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور وابستگی پر مبارکباد دی۔

انہوں نے اناتولیہ ٹریول سروسز کی ویزا سہولیات میں خدمات کو سراہا اور ڈاکٹر خلیل طوقار، کنٹری ڈائریکٹر یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر کی دوطرفہ ثقافتی تعلقات کے فروغ میں کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت وجیہہ قمر نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور سفارت خانہ ترکیہ کے زیر اہتمام اس بامقصد تعلیمی اقدام کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان–ترکیہ تعلقات مشترکہ تاریخ، ایمان، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں اور یہ تعلقات عوامی سطح پر ایک مثالی برادرانہ رشتہ ہیں۔وزیر مملکت نے نوجوانوں اور تحریر کی طاقت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضمون نویسی جیسے علمی اقدامات عالمی بیانیے کی تشکیل اور بین الاقوامی تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے طلباء کو مستقبل کے سفارتکار، دانشور اور رہنما بننے کی تلقین کی جو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

انہوں نے ترکیہ کی جانب سے پاکستانی طلباء کے لئے فراہم کردہ تعلیمی وظائف اور تعلیمی مواقع کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے تبادلہ پروگرام طلباء کے افق وسیع کرتے اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔حکومتِ پاکستان کے بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ تعلیم اقوام کے درمیان سب سے مضبوط پل ہے۔ انہوں نے طلباء کو مطالعہ، تحریر، غیر ملکی زبانوں خصوصاً ترکیہ زبان سیکھنے اور عالمی ثقافتوں کو سمجھنے کی ترغیب دی۔تقریب کے اختتام پر کامیاب طلبہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔

پہلا انعام اخوت کالج فار ویمن، چکوال کی مریم بتول، دوسرا انعام یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہورکی عزا نعیم جبکہ تیسرا انعام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور کے محمد عارض ظفر کو دیا گیا۔ تقریب کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ تعلیم، ثقافت اور نوجوانوں کی قیادت کے ذریعے پاکستان–ترکیہ دوستی کو مزید فروغ دیا جائے گا اور دونوں ممالک کا یہ رشتہ ہمیشہ ایک لازوال بندھن کے طور پر قائم رہے گا۔