نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ’’ہندوتوا نظریہ اور ہندو راشٹر کا تعاقب‘‘پر سیمینار کا انعقاد،بھارت ہندوتوا نظریے کے تحت چلنے والی ریاست بن چکا ہے

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) میں منگل کو ’’ہندوتوا نظریہ اور ہندو راشٹر کا تعاقب‘‘ کے عنوان سےسیمینار منعقد ہوا جس میں مقررین نے ہندوتوا سوچ کے فروغ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کردار اور اس کے خطے بالخصوص پاکستان پر اثرات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔سابق پاکستانی سفیر افراسیاب مہدی ہاشمی قریشی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا …

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) میں منگل کو ’’ہندوتوا نظریہ اور ہندو راشٹر کا تعاقب‘‘ کے عنوان سےسیمینار منعقد ہوا جس میں مقررین نے ہندوتوا سوچ کے فروغ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کردار اور اس کے خطے بالخصوص پاکستان پر اثرات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔سابق پاکستانی سفیر افراسیاب مہدی ہاشمی قریشی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک مختلف سمت میں جا رہی ہے اور فسطائی سوچ صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل میں ایک اہم کردار ہے اور موجودہ حالات کو آر ایس ایس کے قیام (19 ستمبر 1925، ناگپور) سے جوڑتے ہوئے اسے دنیا کی سب سے بڑی بنیاد پرست تنظیم قرار دیا جس کے ارکان کی تعداد سات ملین سے زائد بتائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے بانیوں کے خیالات میں مسلمانوں کو دشمن کے طور پر پیش کیا گیا اور اسلام کو ایک خطرہ سمجھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی آر ایس ایس سوچ میں مسلمانوں کو خطرناک مخلوق سے تشبیہ دی گئی جسے بعد ازاں ہندوتوا نظریے کی بنیاد بنایا گیا۔

مہدی ہاشمی قریشی نے سیمینار میں دکھائی گئی ایک فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کے ایل گوبا کا ذکر کیا جو جنوبی پنجاب کے شہر لیہ کے ہندو مصنف تھے اور بعد ازاں اسلام قبول کر کے حضور نبی کریم ؐ پر کتاب لکھنے والے مصنف بنے۔ انہوں نے کہا کہ گوبا نے ہندوتوا نظریے کو ایک ایسے تصور سے تعبیر کیا جس میں اس کی حدود مکہ سے انڈونیشیا اور وسطی ایشیا سے سری لنکا تک پھیلی ہوئی دکھائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کا بھارت مہاتما گاندھی کے نظریات سے جڑا ہوا بھارت نہیں رہا بلکہ اب اقتدار میں وہ عناصر ہیں جو گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مصنف پنکج مشرا کے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس میں گوڈسے کے بھائی گوپال کی جیل میں ملاقات کا ذکر ہے جہاں گوڈسے نے خواہش ظاہر کی کہ اس کی راکھ دریائے سندھ میں بہائی جائے جب وہ بھارت ماتا میں واپس آئے۔سابق سفیر نے یکم مئی 1947 کی ایک ملاقات کا بھی حوالہ دیا جب امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے دو اہلکاروں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ پاکستان کا قیام مشرق وسطیٰ کی جانب ہندو سامراج کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے کے 15 اگست 2019 کو نیویارک ٹائمز میں شائع مضمون کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج کے بھارت میں آر ایس ایس ریاست کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور فسطائیت کا ایک ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعد کے حالات نے ان خدشات کی تصدیق کی ہے۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ قائداعظمؒ نے دہائیوں پہلے اس ذہنیت کو بھانپ لیا تھا اور سمجھتے تھے کہ ایسے نظریے کے ساتھ مسلمانوں کی برابری کی بنیاد پر بقا ء ممکن نہیں۔

انہوں نے امریکا میں اپنی طالب علمی کے دور کا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا جب ایک بھارتی برہمن ساتھی نے مسلمان کے چھوئے ہوئے گلاس سے پانی پینے سے انکار کر دیا جسے اس نے ناپاک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نے پاکستان کے قیام کی وجہ کو واضح کیا جہاں ’’ہندو پانی‘‘ اور ’’مسلمان پانی‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی سوچ مسلمانوں، دلتوں اور دیگر محروم طبقات کو الگ تصور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت ہندوتوا نظریے کے تحت چلنے والی ریاست بن چکا ہے جس کا مقصد ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا قیام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تصور میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، میانمار، نیپال، چین اور تاجکستان کے بعض علاقے شامل دکھائے جاتے ہیں اور اس حوالے سے ایک نقشہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی آویزاں کیا جا چکا ہے۔مشاہد حسین سید نے ہندوتوا کی حکمت عملی کو ’’تین ڈی‘‘ یعنی شیطنت، غلط معلومات اور عدم استحکام قرار دیا اور کہا کہ یہ نظریہ اب ریاستی سرپرستی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

انہوں نے جینوسائیڈ واچ کے سربراہ ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق نسل کشی کے مراحل ’’دوسروں‘‘ کو نشان زد کرنے سے شروع ہوتے ہیں۔سابق قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے قومی نظریے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کو ایک واضح سمت درکار ہوتی ہے اور اس کے بغیر ترقی بے معنی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فسطائی نظریات برتری کے دعوؤں پر قائم ہوتے ہیں جو بالآخر زوال کا سبب بنتے ہیں۔