سپر ٹیکس سے قومی خزانے کو تقریباً 300 ارب روپے کی آمدنی کی توقع ہے،ایف بی آر

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے سپر ٹیکس سے قومی خزانے کو تقریباً 300 ارب روپے کی آمدن کی توقع ظاہرکی ہے۔منگل کویہاں جاری بیان میں ایف بی آرنے کہاہے کہ ایک تاریخی فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4 بی اور چارسی (سپر ٹیکس کیسز) سے متعلق مقدمات کی سماعت کے بعد گزشتہ روز اپنا مختصر حکم نامہ …

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے سپر ٹیکس سے قومی خزانے کو تقریباً 300 ارب روپے کی آمدن کی توقع ظاہرکی ہے۔منگل کویہاں جاری بیان میں ایف بی آرنے کہاہے کہ ایک تاریخی فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4 بی اور چارسی (سپر ٹیکس کیسز) سے متعلق مقدمات کی سماعت کے بعد گزشتہ روز اپنا مختصر حکم نامہ سنایا، جس میں سپر ٹیکس کو برقرار رکھا گیا۔

توقع ہے کہ اس ٹیکس کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 300 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوگی۔ ٹیکس ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے لیڈ کونسل عاصمہ حمید نے ایف بی آر کی نمائندگی کرتے ہوئے دلائل پیش کیے۔ عدالت نے دفعہ 4 بی سے متعلق ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دفعہ 4 بی کو بطور ٹیکس آئینی طور پر درست قرار دیا، عدالت نے دفعہ 4 سی سپر ٹیکس سے متعلق کمشنرز ان لینڈ ریونیو، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وفاق کی جانب سے دائر اپیلیں بھی منظور کر لیں اور قرار دیا کہ دفعہ 4 سی آئینی طور پر درست ہے اور اس کا اطلاق ٹیکس سال 2022 پر روبہ ماضی ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاہے کہ ٹیکس سال 2022 کے لیے دفعہ 4 سی سپر ٹیکس 10 فیصد کی شرح سے ان 15 شعبہ جات پر لاگو ہوگا جن کی نشاندہی آرڈیننس کے ڈویژن IIB کے پہلے پرووائزو میں کی گئی ہے بشرطیکہ اس ٹیکس سال میں ان کی آمدن 300 ملین روپے سے زائد ہو، تیل کی تلاش اور پٹرولیم کمپنیوں، جن کا کاروبار انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے ففتھ شیڈول کے تحت پیٹرولیم اور کنسیشن معاہدوں کے مطابق چلایا جاتا ہے،

پر دفعہ 4 سی کے اطلاق کے حوالے سے عدالت نے کمشنرز کو نئے نوٹسز جاری کرنے اور دفعہ 4 سی کا اطلاق قانون اور ہر معاہدے کی شرائط و ضوابط کے مطابق کرنے کی ہدایت کی ہے،عدالت نے ہدایت کی کہ اس بات کو مدنظر رکھاجائے کہ معاہدوں میں طے شدہ حدود سے تجاوز نہ ہو،عدالت نے مزید قرار دیا کہ دفعہ 4 سی سپر ٹیکس بینکاری کمپنیوں پر ٹیکس سال 2023 اور اس کے بعد لاگو ہوگا۔