اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی)کے نو تعینات چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے بدھ کو باضابطہ اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ،وہ کمیشن میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی اعلان کردہ اکنامک گورننس ریفارمز کے مطابق اصلاحات شروع کریں گے، پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹس کو مستحکم بنانا، سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو بڑھانا ، کاروبار کرنے میں آسانیوں کو فروغ …
ڈاکٹر کبیر سدھو نے بطور چیئرمین ایس ای سی پی عہدے کا چارج سنبھال لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی)کے نو تعینات چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے بدھ کو باضابطہ اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ،وہ کمیشن میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی اعلان کردہ اکنامک گورننس ریفارمز کے مطابق اصلاحات شروع کریں گے، پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹس کو مستحکم بنانا، سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو بڑھانا ، کاروبار کرنے میں آسانیوں کو فروغ دینا، انشورنس سیکٹر کا فروغ اور نان بینکنگ سیکٹر کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو وسعت دینا اصلاحاتی ایجنڈے کی ترجیحات ہیں۔چیئرمین ایس ای سی پی تعینات ہونے سے پہلے ڈاکٹر کبیر سدھو چیئرمین مسابقتی کمیشن کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
وفاقی حکومت نے ڈاکٹر سدھو کے چیئرمین ایس سی سی پی کے عہدے سے استعفے کو باضابطہ طور پر منظور کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ ڈاکٹر سدھو کے وژن کا محور ایک منصفانہ، شفاف اور جامع مالیاتی نظام کی تشکیل ہے جو سرمایہ کاری، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دے، ریگولیٹری کمپلائنس کی کاسٹ میں کمی ، فائلنگ کو سہل بنانا اور کارپوریٹ و مالیاتی ریگولیٹری فریم ورک مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنا ان کی ترجیحات ہوں گی۔وہ کیپیٹل مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے، مارکیٹ میں نئی کمپنیوں کی لسٹنگ کی حوصلہ افزائی اور نئی پراڈکٹ کے اجرا جیسے کہ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز، ڈیریویٹوز، ریئل سٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس)، گرین بانڈز اور فریکشنل سرمایہ کاری جیسی متنوع مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے پر زور دیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد مارکیٹ میں وسعت پیدا کرنا ، لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا ہو گا تاکہ پاکستان کی مارکیٹس بہترین عالمی روایات سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
ڈاکٹر سدھو کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو نان بینکنگ فنانس کمپنیز (این بی ایف سیز)کے شعبے کا فروغ اور احیا ہے۔ وہ لیزنگ کمپنیوں، ڈیجیٹل لینڈنگ، مارگیج فنانس، ہائوسنگ فنانس اور پیئر ٹو پیئر پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیں گے تاکہ بالخصوص چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں، پہلی بار قرض لینے والوں اور عام طبقات کی چھوٹے قرض تک رسائی کو فروغ دیا جائے، ایس ای سی پی اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے حوصلہ افزا ریگولیٹری ماحول فراہم کرے گا۔ڈاکٹر سدھو انشورنس سیکٹر پر بھی خصوصی توجہ دیں گے ، ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس، تکافل، پیرا میٹرک موسمیاتی انشورنس اور پالیسیوں و کلیمز کے عمل میں شفافیت کے ذریعے انشورنس کی رسائی میں اضافہ اور غیر رسمی معا شی سیکٹر تک بھی انشورنس کی کوریج کو بڑھایا جائے گا۔
ڈاکٹر کبیر سدھو کمیشن کی ڈیجیٹلائزیشن کے سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اور شفافیت کےلیے پیش نظر لائسنسنگ کے نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے پر زور دیا جائے گا، کمپنیوں کے لئے دیگرلیٹری کمپلائنس کو سہل بنانے کے لئے سمارٹ کمپلائنس سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ کمپنیوں کی کاروباری لاگت کو کم اور امور کی پراسیسنگ کو تیز کیا جا سکے۔ڈاکٹر کبیر سدھو پاکستان اور بیرون ملک دو دہائیوں سے زائد قانونی، ریگولیٹری اور انسٹیٹیوشنل مینجمنٹ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف مانچسٹر سے قانون میں پی ایچ ڈی، بینکنگ، انشورنس اور انٹرنیشنل بزنس لا میں ایل ایل ایم کی ڈگری اور فنانشل مینجمنٹ ، مارکیٹ گورننس اور انسٹیٹیوشنل ریفارمز کی مہارت رکھتے ہیں۔







