ای سی سی نے پاسکو کے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخائر کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخائر کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی، اجلاس میں کئی وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اور نگزیب کی زیر …

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخائر کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی، اجلاس میں کئی وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اور نگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم معاشی، مالی اور شعبہ جاتی امورکاجائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کا مقصدکلی میعشت کے استحکام کو یقینی بنانا، صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا، سماجی خدمات کو مضبوط بنانا اور اہم سرکاری اداروں کے آپریشنل ضروریات کو پورا کرنا تھا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاسکو کے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخائر کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دی گئی، اس اقدام کا مقصد اضافی ذخائر کا موثر انتظام، ذخیرہ کرنے اور دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی، ملکی گندم مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا اور غذائی تحفظ کے تقاضوں کا تحفظ کرنا ہے،اسی ضمن میں کمیٹی نے حکومت پنجاب کے محکمہ خوراک و تحفظ صارفین کو پاسکو کی 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری بھی دی تاکہ آٹا ملز کے لیے مناسب گندم کی فراہمی برقرار رہے، قیمتوں میں استحکام آئے اور صارفین کو آٹے کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

اجلاس میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ (پی پی او ڈی) کے ذمے یوٹیلیٹی کمپنیوں کی واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے درکار فنڈز کا جائزہ لیا گیا اور کئی برسوں سے جمع شدہ بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 10.98 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس میں وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط کے تحت وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے لیے 29.663 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی تاکہ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) کے تحت ویکسین اور سرنجوں کی بلا تعطل خریداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو برقرار رکھنا، ویکسین سے بچائو کے قابل بیماریوں کے پھیلائو کو روکنا اور صحت عامہ کے حوالے سے پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ اجلاس میں وزارت تجارت کی درخواست پر درآمدی یوریا پر دی جانے والی سبسڈی کو وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ففٹی ففٹی کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی بھی منظوری دی گئی جس کے لیے 23.42 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی،اس میں میں سے 15 ارب روپے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے جائیں گے جبکہ باقی رقم مالی گنجائش کی دستیابی سے مشروط ہوگی۔ اجلاس میں پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) اچیومنٹ پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے ضمن میں وزارت ہائوسنگ کیلئے 1.9ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی،یہ منصوبے پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کرنا اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔

اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی درخواست پر کیڈٹ کالج حسن ابدال کے لیے 150 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی کی بھی منظوری دی گئی، اس گرانٹ کامقصد ادارے کی انتظامی اور ترقیاتی ضروریات کو پوراکرنا اور امور کی بلا رکاوٹ انجام دہی کو یقینی بناناہے۔ اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ضبط شدہ سولر پینلز کو حکومت گلگت بلتستان میں تقسیم کرنے کی منظوری دی گئی جس کے ساتھ ان کی ترسیل اور تقسیم کے منصوبے کی منظوری بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں بجلی کی قلت پر قابو پانا، قابل تجدید توانائی کے حل کو فروغ دینا اور پائیدار بجلی کی پیداوار کے ذریعے عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی معاونت کرنا ہے۔