اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ٹیکس سے متعلق درجنوں سول اپیلوں، آئینی درخواستوں اور ٹرانسفر کیسز پر رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہےجس کے تحت بعض مقدمات نمٹا دیے گئے جبکہ متعدد ٹیکس ریفرنسز قانون کے مطابق فیصلے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹس کو واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان …
وفاقی آئینی عدالت کا ٹیکس مقدمات سے متعلق تفصیلی تحریری فیصلہ جاری، درجنوں سول اپیلوں اور ٹرانسفر کیسز پر اہم احکامات

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ٹیکس سے متعلق درجنوں سول اپیلوں، آئینی درخواستوں اور ٹرانسفر کیسز پر رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہےجس کے تحت بعض مقدمات نمٹا دیے گئے جبکہ متعدد ٹیکس ریفرنسز قانون کے مطابق فیصلے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹس کو واپس بھیج دیے گئے ہیں۔
یہ مقدمات چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنے ۔ عدالت نے ان مقدمات کی سماعت 27 جنوری 2026 کو کی تھی۔تحریری فیصلے کے مطابق ٹیکس دہندگان کی جانب سے سینئر وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کیے جبکہ بعض دیگر وکلاء نے تحریری معروضات بھی جمع کرائیں جنہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔
عدالت نے سی پی ایل اے نمبر 724-K/2022 کو دیگر مقدمات سے علیحدہ (ڈی کلب)کرتے ہوئے اسے الگ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم بھی دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں ٹیکس ریفرنس نمبر 87-P/2024، 25/2019، 27-P/2019، 111-P/2024، 108-P/2023، 43/2024، 34-P/2024، 109-P/2024، 113-P/2024، 112-P/2024، 110-P/2024 اور 49-P/2025 سمیت متعدد ٹیکس ریفرنسز کو فیصلے کے لیے پشاور ہائی کورٹ واپس بھیج دیا جبکہ متعلقہ ٹرانسفر کیسز نمٹا دیے گئے۔وفاقی آئینی عدالت میں زیرِ سماعت ان مقدمات میں ڈی جی خان سیمنٹ، میپل لیف سیمنٹ، ابراہیم فائبرز، حبیب رفیق (پرائیویٹ) لمیٹڈ، سیف ہولڈنگ لمیٹڈ، او پی پی او موبائل ٹیکنالوجیز، اینگرو کارپوریشن، اٹلس ہونڈا، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ، نشات (چونیاں) لمیٹڈ، داوو پاکستان ایکسپریس بس سروس، کوہاٹ سیمنٹ، قرشی انڈسٹریز، ورلڈ کال ٹیلی کام، کولگیٹ پامولیو، بی انرجی لمیٹڈ سمیت دیگر کمپنیوں اور افراد کی جانب سے دائر سول اپیلیں شامل تھیں۔
یہ اپیلیں لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے مختلف فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھیں جن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، وزارتِ خزانہ اور وفاقی حکومت کے ٹیکس اقدامات اور نوٹسز کو چیلنج کیا گیا تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ مذکورہ تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کیے گئے ہیں جبکہ مختصر حکم اسی روز جاری کر دیا گیا تھا۔







