اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس ملازمین کی برطرفی کے بعد بحالی اور بقایاجاتِ تنخواہ سے متعلق اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض برطرفی کا حکم کالعدم ہونے سے سابقہ مدت کی مکمل تنخواہ کی ادائیگی خود بخود لازم نہیں ہو جاتی بلکہ اس بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار متعلقہ مجاز اتھارٹی کے پاس ہے تاہم یہ اختیار منصفانہ، معقول …
برطرفی کالعدم ہونے پر تنخواہ کی ادائیگی خودکار حق نہیں، اختیار مجاز اتھارٹی کے پاس ہوگا ، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس ملازمین کی برطرفی کے بعد بحالی اور بقایاجاتِ تنخواہ سے متعلق اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض برطرفی کا حکم کالعدم ہونے سے سابقہ مدت کی مکمل تنخواہ کی ادائیگی خود بخود لازم نہیں ہو جاتی بلکہ اس بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار متعلقہ مجاز اتھارٹی کے پاس ہے تاہم یہ اختیار منصفانہ، معقول اور شفاف بنیادوں پر استعمال کیا جانا لازم ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا پولیس کے ملازمین سے متعلق متعدد سول اپیلوں اور سول پٹیشنز پر ایک مشترکہ فیصلہ جاری کیا۔
بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل تھے۔عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا برطرفی کا حکم منسوخ ہونے اور ملازم کی بحالی کے بعد اسے لازماً برطرفی کے عرصے کی مکمل تنخواہ اور مراعات ادا کی جائیں یا نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 17 کے تحت بقایاجاتِ تنخواہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ایک صوابدیدی اختیار ہے، تاہم یہ صوابدید غیر محدود یا من مانی نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 10-اے میں دیے گئے منصفانہ ٹرائل کے حق اور ’’کلچر آف جسٹیفکیشن‘‘ کے اصول کے تحت استعمال ہونی چاہیے۔فیصلے میں کہا گیا کہ انتظامی اختیارات محض اتھارٹی کی طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس وجوہات، معقول جواز اور شفاف دلائل کے ساتھ استعمال کیے جانے چاہئیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ برطرفی کے خاتمے اور بقایاجاتِ تنخواہ کی منظوری دو الگ مگر باہم مربوط معاملات ہیں۔سپریم کورٹ نے برطرفی کے خاتمے کی چار ممکنہ صورتوں کی نشاندہی کی، جن میں طریقہ کار کی خامی، تکنیکی بنیاد، سزا کا غیر متناسب ہونا اور الزامات کا ثابت نہ ہونا شامل ہیں۔ عدالت کے مطابق اگر برطرفی غلط ثابت ہو تو ملازم کے حق میں مکمل بحالی اور بقایاجات کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تاہم اگر معاملہ محض تکنیکی یا طریقہ کار کی بنیاد پر ہو تو بقایاجات کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔عدالت نے یہ اصول بھی طے کیا کہ بقایاجات کے حصول کے لیے ملازم پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ فورم کے سامنے یہ مؤقف اختیار کرے کہ وہ برطرفی کے عرصے میں بے روزگار رہا یا کم اجرت پر کام کرتا رہا۔
دوسری جانب اگر حکومت یا اتھارٹی بقایاجات کی مخالفت کرے تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت کرے کہ ملازم اس دوران مکمل یا مساوی تنخواہ پر کہیں اور ملازمت کر رہا تھا۔فیصلے میں زور دیا گیا کہ صوابدیدی اختیار کا استعمال متناسب، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، بصورت دیگر عدالتی مداخلت ناگزیر ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا کہ منصفانہ طرزِ حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر فیصلہ وجوہات کے ساتھ کیا جائے تاکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔







