سپریم کورٹ کا ٹرائل کورٹ کوایک کلو گرام ہیروئن سمگلنگ کیس میں فیصلہ 60 روز میں سنانے کا حکم،ملزم کی ضمانت مسترد

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ایک کلو گرام ہیروئن سمگلنگ کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کو ملزم عبدالودود کے خلاف فیصلہ 60 روز کے اندر سنانے کا حکم دیا ہے جبکہ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ملزم ضمانت کے لیے دو مرتبہ دوبارہ رجوع کر سکے گا۔ عدالت نے ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔مقدمے کی سماعت جمعرات کو جسٹس جمال مندوخیل کی …

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ایک کلو گرام ہیروئن سمگلنگ کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کو ملزم عبدالودود کے خلاف فیصلہ 60 روز کے اندر سنانے کا حکم دیا ہے جبکہ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ملزم ضمانت کے لیے دو مرتبہ دوبارہ رجوع کر سکے گا۔ عدالت نے ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔مقدمے کی سماعت جمعرات کو جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک ٹرک سے مجموعی طور پر 10 کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی، جبکہ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ٹرک کا کنڈیکٹر تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ اے این ایف کا طریقہ کار پہلے اچھا تھا لیکن اب وہ معیار برقرار نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے اصل مالکان آج تک گرفتار نہیں ہو سکے، مخبر گاڑی کے ذریعے سمگلنگ کی اطلاع تو دیتے ہیں لیکن اصل مالکان کے بارے میں نہیں بتایا جاتا اور نہ ہی گاڑی لوڈ ہونے کے وقت اطلاع دی جاتی ہے۔انہوں نے مزید ریمارکس دئیے کہ ایک کلو گرام ہیروئن بھی بہت زیادہ مقدار ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 60 روز میں مقدمے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

مزید خبریں