رانا ثناء اللہ خان کی صدارت پاکستان سپورٹس بورڈ کا اجلاس،ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی محمد یاسر پیرزادہ کی کارکردگی کو سراہا گیا

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے 35ویں بورڈ اجلاس میں پی ایس بی کے ڈائریکٹر جنرل محمد یاسر پیرزادہ کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔ بورڈ کا اجلاس پی ایس بی کے صدر رانا ثناء اللہ خان کی صدارت منعقد ہواجس میں ڈائریکٹر جنرل محمد یاسر پیرزادہ کی ان کاوشوں کو سراہا گیاجن کے نتیجے میں پاکستان کو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی کمپلائنس …

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے 35ویں بورڈ اجلاس میں پی ایس بی کے ڈائریکٹر جنرل محمد یاسر پیرزادہ کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔ بورڈ کا اجلاس پی ایس بی کے صدر رانا ثناء اللہ خان کی صدارت منعقد ہواجس میں ڈائریکٹر جنرل محمد یاسر پیرزادہ کی ان کاوشوں کو سراہا گیاجن کے نتیجے میں پاکستان کو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی کمپلائنس واچ لسٹ سے نکال دیا گیا۔ بدھ کو پی ایس بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بورڈ کے اراکین نےگورننس اور کمپلائنس سے متعلق متعدد امور کا جائزہ لیا جن میں پاکستان کا واڈا واچ لسٹ سے حالیہ اخراج بھی شامل تھا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کو ستمبر 2024ء میں ایک آزاد قومی اینٹی ڈوپنگ ڈھانچے کی عدم موجودگی پر واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

ڈی جی پی ایس بی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد واڈا کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا، کوڈ کمپلائنس کوئسچنیئر میں موجود خامیوں کو دور کیا اور اصلاحات کی حمایت کی جن کے نتیجے میں ایک خودمختار پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ (پی اے ڈی بی) قائم کیا گیا۔ بعد ازاں واڈا نے ستمبر 2025ء میں پاکستان کو واچ لسٹ سے نکال دیا۔بورڈ نے قومی سپورٹس پالیسی پر عملدرآمد میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔

حکام نے بتایا کہ پہلی مرتبہ پی ایس بی نے دو ٹینیور کے اصول پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایاجس کے نتیجے میں 6 قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کے عہدیداران نے اپنی مقررہ مدت پوری ہونے پر عہدے چھوڑ دیئے۔اراکین نے اسے کھیلوں کی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔اس کے علاوہ بورڈ نے پی ایس بی کی سالانہ رپورٹ 2024–25 کی منظوری بھی دی جو تقریباً دو دہائیوں بعد پیش کی جانے والی پہلی باضابطہ سالانہ رپورٹ ہے

اراکین کے مطابق اس روایت کی بحالی سے شفافیت،دستاویزی عمل اور ادارہ جاتی احتساب کو فروغ ملا ہے۔بورڈ اراکین نے کہا کہ یقیناً یہ اقدامات گورننس کے معیار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کے ساتھ پاکستان کے روابط کومضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔