لاہور۔5فروری (اے پی پی):گروپ سی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے پہلے ہی دن ایک سنسنی خیز ٹرپل ہیڈر کے ساتھ شروع ہو رہا ہے، جہاں کولکتہ میں اسکاٹ لینڈ اور ویسٹ انڈیز آمنے سامنے ہوں گے۔ اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دو ایسی ٹیمیں شامل ہیں جو دو، دو مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت چکی ہیں انگلینڈ، بھارت اور …
آئی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ۔گروپ سی میں شامل ٹیموں کی جائزہ رپورٹ

مزید خبریں
لاہور۔5فروری (اے پی پی):گروپ سی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے پہلے ہی دن ایک سنسنی خیز ٹرپل ہیڈر کے ساتھ شروع ہو رہا ہے، جہاں کولکتہ میں اسکاٹ لینڈ اور ویسٹ انڈیز آمنے سامنے ہوں گے۔ اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دو ایسی ٹیمیں شامل ہیں جو دو، دو مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت چکی ہیں انگلینڈ، بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ مل کر تیسری مرتبہ ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کرنے کے خواہاں ہوں گی۔اسکاٹ لینڈ اس ٹورنامنٹ میں ساتویں مرتبہ شرکت کر رہا ہے جبکہ نیپال 2014 اور 2024 کے بعد تیسری بار ورلڈ کپ میں واپسی کر رہا ہے۔
اٹلی پہلی مرتبہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا ۔ اس طرح یہ یورپی ٹیم اس ایونٹ میں شامل ہونے والی 25ویں قومی ٹیم بن جائے گی۔انگلینڈ کی ٹیم ہیری بروک کی قیادت میں شاندار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ریکارڈ کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انگلینڈ وہ واحد ٹیم ہے جو گزشتہ چاروں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں سیمی فائنل تک پہنچی ہے۔ 2010 اور 2022 کی چیمپئن ٹیم کو فاسٹ بولر جوفرا آرچر کی واپسی سے مزید تقویت ملی ہے۔ آرچر کے ساتھ تجربہ کار لیگ اسپنر عادل رشید بھی انگلینڈ کے لیے اہم ہتھیار ہوں گے، جو اپنے پانچویں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لے رہے ہیں۔
سیم کرن جو 2022 میں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ رہے تھے، بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ فل سالٹ اور جوز بٹلر جیسی عالمی معیار کی بیٹنگ لائن اپ انگلینڈ کو خطرناک بناتی ہے۔اٹلی نے 2025 یورپ ریجنل فائنل میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا تھا اور اسی مرحلے پر اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ہیری مانینٹی نے اس میچ میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ٹیم کی قیادت 42 سالہ وین میڈسن کر رہے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں آئرلینڈ کے خلاف ناقابلِ شکست 61 رنز کی اننگز کھیل کر اچھی فارم کا ثبوت دیا ہے۔
نیپال کی ٹیم سابق آسٹریلوی کھلاڑی اسٹیورٹ لا کی کوچنگ میں میدان میں اترے گی اور عالمی سطح کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے موقع کو بھرپور انداز میں لینا چاہے گی۔ کشال بھرتیل اور آصف شیخ 2025 میں نیپال کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے، جبکہ نائب کپتان دیپندر سنگھ ایری اور اسٹار اسپنر سندیپ لمچھانے ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ لمچھانے گزشتہ سال 21 وکٹوں کے ساتھ نیپال کے سب سے کامیاب بولر تھے۔اسکاٹ لینڈ لگاتار پانچویں مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کر رہا ہے اور 2021 میں سپر 12 مرحلے تک رسائی ان کی اب تک کی بہترین کارکردگی رہی ہے۔
اس بار بھی اسکاٹش ٹیم کسی بڑی ٹیسٹ کھیلنے والی قوم کو حیران کرنے کی امید رکھتی ہے۔ برینڈن میک مولن، رچی بیرنگٹن اور اسپنر مارک واٹ اسکاٹ لینڈ کے اہم کھلاڑی ہوں گے، جن سے ٹیم کو نمایاں کارکردگی کی توقع ہے۔ویسٹ انڈیز، جو 2012 اور 2016 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت چکا ہے، ایک بار پھر خود کو منوانے کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔ اگرچہ گزشتہ ٹورنامنٹ میں ہوم گرانڈ پر سپر ایٹ مرحلے میں اخراج مایوس کن رہا، لیکن ڈیرن سیمی کی ٹیم کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شمرون ہٹ مائر حالیہ میچز میں اچھی فارم میں ہیں، جبکہ کپتان شائی ہوپ نے آسٹریلیا کے خلاف اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سنچری بنا کر قیادت کی صلاحیت دکھائی۔ برینڈن کنگ کے ساتھ مضبوط آغاز اور بولنگ میں اکھیل حسین کی اسپن ویسٹ انڈیز کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔








