لاہور۔5فروری (اے پی پی):آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جدید کرکٹ کی تاریخ کا وہ سنگِ میل ہے جس نے کھیل کی رفتار، مزاج اور عالمی مقبولیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس فارمیٹ کا باقاعدہ آغاز 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا، جہاں پہلی بار دنیا بھر کی ٹیمیں مختصر ترین فارمیٹ میں عالمی اعزاز کے لیے آمنے سامنے آئیں۔ اس پہلے ٹورنامنٹ میں 12 ٹیموں …
ٹونٹی ورلڈ کپ کا آغاز 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا، عالمی اعزاز کے لیے12ٹیمیں آمنے سامنے آئیں

مزید خبریں
لاہور۔5فروری (اے پی پی):آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جدید کرکٹ کی تاریخ کا وہ سنگِ میل ہے جس نے کھیل کی رفتار، مزاج اور عالمی مقبولیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس فارمیٹ کا باقاعدہ آغاز 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا، جہاں پہلی بار دنیا بھر کی ٹیمیں مختصر ترین فارمیٹ میں عالمی اعزاز کے لیے آمنے سامنے آئیں۔ اس پہلے ٹورنامنٹ میں 12 ٹیموں نے شرکت کی اور بھارت نے سنسنی خیز مقابلوں کے بعد پاکستان کو فائنل میں شکست دے کر پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا، جس نے کرکٹ میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھ دی۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو ابتدا میں محض تفریحی اور تجرباتی فارمیٹ سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر انگلش کانٹی کرکٹ میں اس پر شدید تنقید کی گئی۔ تاہم اس کا مقصد نوجوان شائقین کو کرکٹ کی طرف متوجہ کرنا اور کھیل کو سادہ اور دلچسپ بنانا تھا۔ 2003 میں پروفیشنل سطح پر متعارف ہونے کے بعد یہ فارمیٹ تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گیا اور 2007 کا ورلڈ کپ اس کی مقبولیت کا سب سے بڑا ثبوت ثابت ہوا۔
اسی ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر تاریخ رقم کی اور بعد ازاں 117 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی پہلی سنچری اسکور کی۔اس پہلے ورلڈ کپ میں کئی یادگار لمحات دیکھنے کو ملے، جن میں بول آوٹ کے ذریعے فیصلے، یووراج سنگھ کے ایک ہی اوور میں اسٹورٹ براڈ کے خلاف چھ چھکے، اور فائنل میں مصباح الحق کا وہ شاٹ شامل ہے جو آج بھی شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
یہ ٹورنامنٹ نہ صرف بھارت کی فتح پر ختم ہوا بلکہ اس نے مستقبل کے تمام ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے سنسنی، ڈرامے اور غیر متوقع نتائج کی بنیاد رکھ دی۔2009 میں انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا۔ شاہد آفریدی اس ٹورنامنٹ کے ہیرو رہے ۔ اسی ایونٹ میں نیدرلینڈز نے میزبان انگلینڈ کو شکست دے کر کرکٹ کی تاریخ کے بڑے اپ سیٹس میں اپنا نام درج کرایا۔
2010 میں ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے اپنی پہلی وائٹ بال ٹرافی جیتی، جہاں کیون پیٹرسن کی جارحانہ بیٹنگ نے ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔2012 میں سری لنکا کی میزبانی میں ویسٹ انڈیز نے فائنل میں میزبان ٹیم کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا۔ مارلن سیموئلز کی شاندار اننگز اور سنیل نارائن کی تباہ کن بولنگ نے اس فائنل کو یادگار بنا دیا۔
اگرچہ سری لنکا کو اس فائنل میں شکست ہوئی، لیکن انہوں نے 2014 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھارت کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کی، جس کے ساتھ ہی کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو شاندار انداز میں الوداع کہا۔2016 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کرکٹ کی تاریخ کے سنسنی خیز ترین ایونٹس میں شمار ہوتا ہے، جہاں کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے کارلوس بریتھویٹ نے بین اسٹوکس کے آخری اوور میں لگاتار چار چھکے لگا کر ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ کمنٹری میں آئن بشپ کے تاریخی الفاظ ری ممبر دی نیم آج بھی شائقین کو جوش سے بھر دیتے ہیں۔
اس فتح کے ساتھ ویسٹ انڈیز دو بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔پانچ سال کے وقفے کے بعد 2021 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا، جہاں آسٹریلیا نے پہلی بار یہ اعزاز حاصل کیا۔ فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈیوڈ وارنر اور مچل مارش کی شاندار بیٹنگ نے آسٹریلیا کو یادگار فتح دلائی۔ اس کے بعد 2022 میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر دوسری بار ٹائٹل جیتا اور بیک وقت ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم بن گئی۔ سیم کرن کو اس ٹورنامنٹ میں شاندار آل رانڈ کارکردگی پر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔
2024 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اس اعتبار سے منفرد رہا کہ پہلی بار ٹیموں کی تعداد 20 کر دی گئی۔ امریکہ، کینیڈا اور یوگنڈا نے اس ایونٹ میں ڈیبیو کیا اور امریکہ کی پاکستان کے خلاف سپر اوور میں تاریخی فتح نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ افغانستان نے بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلی بار کسی بڑے آئی سی سی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔فائنل میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر دوسری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا۔
ویرات کوہلی نے فائنل میں 76 رنز کی اہم اننگز کھیلی جبکہ جسپریت بمراہ کی تباہ کن بولنگ نے جنوبی افریقہ کی جیت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس فتح کے بعد ویرات کوہلی اور روہت شرما نے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جس سے ایک عہد کا اختتام ہوا۔اب نگاہیں 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر مرکوز ہیں، جو بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا۔
اس ٹورنامنٹ میں نئے کھلاڑی، نئی حکمت عملیاں اور نئی ٹیمیں میدان میں نظر آئیں گی۔ اٹلی پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا، جبکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین ایک اور یادگار اور سنسنی خیز عالمی مقابلے کے منتظر ہیں، جو ایک بار پھر ثابت کرے گا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جدید دور کی سب سے مقبول اور پرجوش شکل بن چکی ہے۔








