ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں میزبان ملک وسابق چیمپئن فتح حاصل نہیں کرسکا

لاہور۔6فروری (اے پی پی):ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں کوئی میزبان ملک و سابق چیمپئن فاتح نہیں رہا۔ کرکٹ کی دنیا ایک بار پھر تاریخ کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ریکارڈز، روایتوں اور سیاست کے پیچیدہ امتزاج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دفاعی چیمپئن اور میزبان کی حیثیت سے بھارت اس میگا ایونٹ میں داخل …

لاہور۔6فروری (اے پی پی):ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں کوئی میزبان ملک و سابق چیمپئن فاتح نہیں رہا۔ کرکٹ کی دنیا ایک بار پھر تاریخ کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ریکارڈز، روایتوں اور سیاست کے پیچیدہ امتزاج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دفاعی چیمپئن اور میزبان کی حیثیت سے بھارت اس میگا ایونٹ میں داخل ہو رہا ہے، مگر یہ دونوں اعزازات اس مختصر فارمیٹ کی تاریخ میں آج تک کسی کے لیے خوش بخت ثابت نہیں ہو سکے۔ نہ کوئی میزبان ملک اور نہ ہی کوئی دفاعی چیمپئن اس ٹرافی کا کامیابی سے دفاع کر سکا ہے، تاہم بھارت کے پاس اب یہ روایت توڑنے اور نئی تاریخ رقم کرنے کا نادر موقع موجود ہے۔یہ ورلڈ کپ کئی حوالوں سے بھارتی کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔

طویل عرصے بعد کسی بڑے آئی سی سی ٹورنامنٹ میں بھارتی ڈریسنگ روم ویرات کوہلی اور روہت شرما جیسے قدآور ناموں کے بغیر نظر آئے گا۔ اگرچہ ان کی غیر موجودگی ٹیم کے تجربے اور رعب میں کمی کا باعث بن سکتی ہے، لیکن اسی خلا میں ایک نیا توازن، نئی قیادت اور جدید ٹی20 کرکٹ سے ہم آہنگ سوچ جنم لیتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ تجزیات اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بھارت اس بار ایک زیادہ گہری، لچکدار اور جارحانہ ٹیم کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے، جو حالیہ برسوں کی کئی بھارتی ٹیموں سے زیادہ مکمل دکھائی دیتی ہے۔

تاہم کرکٹ محض کاغذی طاقت، فارم گراف یا امکانات کا کھیل نہیں۔ یہ اعصاب، لمحوں اور مخصوص دنوں پر کھلاڑیوں کے حوصلے کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ بھارتی ٹیم کو بھی چند سنجیدہ خدشات لاحق ہیں، جن میں ممکنہ انجریز اور اوپنر سنجو سیمسن کے ساتھ ساتھ کپتان سوریہ کمار یادیو کی فارم پر سوالات شامل ہیں، اگرچہ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں ان کی بروقت کارکردگی نے ٹیم کو کچھ حد تک اطمینان ضرور دیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت گروپ مرحلہ نسبتا آسانی سے عبور کر لے گا، تاہم اصل امتحان ناک آئوٹ مرحلے میں اس کا منتظر ہوگا۔دوسری جانب اس ٹورنامنٹ پر کرکٹ کے ساتھ ساتھ علاقائی سیاست کا سایہ بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کو بھارت میں میچ کھیلنے سے انکار پر ایونٹ سے باہر کر دیا گیا، جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو متبادل کے طور پر شامل کیا گیا۔ اسی سلسلے میں پاکستان نے 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول ہائی وولٹیج مقابلے کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، البتہ سری لنکا میں اپنے دیگر میچ کھیلنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

یہ صورتحال پچھلے برس چیمپئنز ٹرافی کے ہائبرڈ ماڈل کی یاد تازہ کرتی ہے، جب بھارت نے اپنے تمام میچ دبئی میں کھیلے تھے۔پاکستانی حکومت کے اس فیصلے نے عالمی کرکٹ حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ بھارت اور پاکستان کا مقابلہ، جو اب صرف عالمی ایونٹس تک محدود رہ گیا ہے، آج بھی کرکٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ توجہ، ناظرین اور آمدنی سمیٹنے والا میچ سمجھا جاتا ہے۔

مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کھیل کی منطق اور سیاست کے تقاضوں کے درمیان فاصلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان کشیدگی نہ صرف عالمی کرکٹ کے موجودہ نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے بلکہ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ کی متوقع واپسی کے خواب کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔یوں 2026 کا ٹی20 ورلڈ کپ صرف بیٹ اور بال کی جنگ نہیں بلکہ تاریخ، دبائو، سیاست اور اعصاب کا ایک بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے اور اس پوری کہانی کا مرکزی کردار اس وقت بھارت ہی دکھائی دیتا ہے۔