سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت، فریقین کو نوٹس، جیل میں حالت سے متعلق رپورٹ طلب

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے فریقین کو منگل 10فروری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودہ حالت سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی۔چیف …

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے فریقین کو منگل 10فروری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودہ حالت سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے موکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملاقات سے متعلق بھی کل فیصلہ کیا جائے گا اور دوسرے فریق کو نوٹس دیے بغیر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواست کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیا۔

اسی طرح توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں بھی غیر مؤثر قرار دے کر خارج کر دی گئیں۔عدالت نے 9 مئی کے لاہور واقعات سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر بھی تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا، جبکہ سائفر کیس اور 9 مئی کے واقعات سے متعلق ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

ہتکِ عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر بھی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی تاہم اس کیس میں بھی تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم جاری کیا گیا۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وکیل لطیف کھوسہ کی ملاقات کی درخواست پر حکومت کو منگل 10فروری کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ نوٹس کے بغیر ملاقات سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ اس مرحلے پر درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراض کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا، جبکہ یہ امر بھی مدنظر رکھا جائے کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات دیگر عدالتوں میں بھی زیر التوا ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے نزدیک یہ کیس غیر مؤثر ہو چکا ہے اور یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا یہ واقعی غیر مؤثر ہے یا ابھی اس کو آگے چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ درخواست 24 اگست 2023 کے ایک حکمنامے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔