اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی نے ترلائی کلاں میں جامعہ مسجد خدیجة الکبری میں ہونے والے المناک خود کش بم دھماکے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے اس وحشیانہ دہشت گردی کو پاکستان کے آئین، مذہبی آزادی ،قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی پر برائے راست حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحہ میں ملوث خود کش حملہ آور، سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور …
قومی اسمبلی اجلاس، ترلائی جامعہ مسجد میں ہونے والے خود کش بم دھماکے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی نے ترلائی کلاں میں جامعہ مسجد خدیجة الکبری میں ہونے والے المناک خود کش بم دھماکے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے اس وحشیانہ دہشت گردی کو پاکستان کے آئین، مذہبی آزادی ،قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی پر برائے راست حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحہ میں ملوث خود کش حملہ آور، سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور سرپرست عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں رولز معطل کر کے پرائیویٹ ممبر قرارداد انجینئر حمید حسین نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان 6 فروری 2026ء کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں جامعہ مسجد خدیجة الکبری میں ہونے والے المناک خود کش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں معصوم نمازی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ ایوان اس وحشیانہ دہشت گردی کو پاکستان کے آئین، مذہبی آزادی، قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی پر برائے راست حملہ قرار دیتا ہے۔
یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اس سانحہ میں ملوث خود کش حملہ آور، سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور سرپرست عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تکفیری تنظیموں، ان کے نیٹ ورکس، فنڈنگ، سوشل میڈیا پراپیگنڈے اور عوامی سرگرمیوں کیخلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ عبادتگاہوں بالخصوص مساجد و امام بارگاہوں کی سیکورٹی کے موثر اور مستقل انتظامات کئے جائیں۔
شہداء کے لواحقین کو فوری اور مناسب مالی امداد جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردی کیخلاف قومی سطح پر موثر حکمت عملی مرتب کر کے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ ڈپٹی سپیکر نے قرارداد ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے متفقہ منظوری دیدی۔








