سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ نہیں رہتی، قومی تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے جن کا ذکر کرتے ہوئے ندامت ہوتی ہے، وقت آ گیا ہے کہ 70 سالہ پرانے کینسر کا علاج تجویز کیا جائے، اگر آئین پاکستان کے عوام کو حکمرانی کا حق دیتا ہے تو …

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ نہیں رہتی، قومی تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے جن کا ذکر کرتے ہوئے ندامت ہوتی ہے، وقت آ گیا ہے کہ 70 سالہ پرانے کینسر کا علاج تجویز کیا جائے، اگر آئین پاکستان کے عوام کو حکمرانی کا حق دیتا ہے تو اسے تسلیم کیا جائے، قوم نے جی ٹی روڈ اور بعد میں این اے 120 کے عوام نے دو ٹوک اور واضح فیصلہ دیدیا ہے، ایسے فیصلے آتے رہیں گے، 2018ءمیں بھی قوم ایک ایسا عظیم فیصلہ دے گی جو مولوی تمیز الدین کیس جیسے فیصلوں کی طرح سب کو بہا کر لے جائے گا، میں جھوٹ پر مبنی بنائے ہوئے مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں، قوم کی محبت ہی میرا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر اتحاد آئندہ الیکشن میں بھی ہماری کامیابی کا ذریعہ بنے گا، میں نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی قسم کھائی ہے اور ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔ منگل کو پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ مجھے اپنی اہلیہ کی علالت کی وجہ سے لندن جانا پڑا، ان کی بیماری کی نوعیت آپ کے سامنے آ چکی ہے، میں پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری اہلیہ کو دعاﺅں سے نوازا، یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ میں زیادہ دن وطن سے باہر گزاروں، میرے قریبی رفقاءاس بات کو جانتے تھے کہ ہماری واپسی کی تاریخ طے ہو چکی تھی، ہمارے مخالفین نے طرح طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مقدمات کا سامنا کیا ہے، یہ میری ذات کا نہیں، پوری قوم کا مسئلہ ہے، میں مشرف دور میں پرواز پی کے 786 سے لندن سے وطن واپس آیا تھا، مگر مجھے ملک بدر کر دیا گیا۔

Leave a Reply