اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کو بتایا کہ نیا گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو 20 جنوری 2025 سے فعال ہے، گوادر فری زون اور بہتر شاہراہوں کی بدولت بلوچستان کے زرعی، معدنیات اور ماہی گیری کے شعبوں کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں مدد دے گا۔ وزیرِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی جانب سے سوالوں کے …
گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بلوچستان کے زرعی، معدنیات اور ماہی گیری کے شعبوں کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں مدد دے گا، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کو بتایا کہ نیا گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو 20 جنوری 2025 سے فعال ہے، گوادر فری زون اور بہتر شاہراہوں کی بدولت بلوچستان کے زرعی، معدنیات اور ماہی گیری کے شعبوں کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں مدد دے گا۔
وزیرِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی جانب سے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ اور متعلقہ انفراسٹرکچر صوبے میں تجارتی لاجسٹکس اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی وسیع حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ گوادر پورٹ پر تقریباً 2,281 ایکڑ پر مشتمل مکمل طور پر تیار شدہ گوادر فری زون فعال ہے، جو تجارت، ری ایکسپورٹ، گودام سازی، تقسیم اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
فری زون میں بلوچستان کے زرعی، معدنیات اور ماہی گیری کے شعبوں سے متعلق مصنوعات کی پراسیسنگ، پیکیجنگ اور ویلیو ایڈیشن کے مواقع بھی موجود ہیں۔وزیر نے بتایا کہ فری زون میں سرمایہ کاروں کو متعدد مراعات دی جا رہی ہیں، جن میں وفاقی، صوبائی اور مقامی ٹیکسوں سے 23 سالہ چھوٹ، 99 سال تک لیز کے مواقع اور مشینری و آلات کی درآمد پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے استثنا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ون ونڈو سہولت، تیار گودام، دفتری جگہ اور صنعتی یونٹس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات اور اندرونی انفراسٹرکچر بھی فراہم کیا جا چکا ہے۔
رابطہ کاری کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ کو دیگر اضلاع سے بڑی شاہراہوں کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے، جن میں ایم-8 رتوڈیرو–گوادر موٹروے، این-85 ہوشاب–سوراب شاہراہ اور این-10 مکران کوسٹل ہائی وے شامل ہیں، جو گوادر کو پسنی اور اورماڑہ کے راستے کراچی سے ملاتی ہے۔ این-25 کراچی–کوئٹہ (چمن) شاہراہ کو بھی وفاقی فنڈنگ سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت گوادر پورٹ، ایئرپورٹ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کے درمیان سڑک رابطوں کی ذمہ دار ہے، جبکہ ایئرپورٹ پر گودام اور اسٹوریج سہولیات کی ترقی دفاعی ڈویژن (ایوی ایشن)، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔سینیٹر دانش کمار کے اضافی سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ رتوڈیرو روڈ اور گوادر سے متعلق انفراسٹرکچر کا معاملہ بنیادی طور پر منصوبہ بندی کے دائرہ کار میں آتا ہے۔








