ٹوکیو۔16فروری (اے پی پی):جاپان کی معیشت سال 2025 کی چوتھی سہ ماہی اکتوبر تا دسمبر میں سالانہ بنیادوں پر 0.2 فیصد بڑھی ، مہنگائی کے دباؤ کے باوجود ذاتی اخراجات میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ امریکی ٹیرف کے باعث آٹو برآمدات میں کمی سے مجموعی برآمدات کمزور رہیں۔جاپانی خبررساں ادارے نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ چوتھی سہ ماہی میں افراط زر سے ایڈجسٹ …
جاپان کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو اکتوبر تا دسمبر 0.1 فیصد ریکارڈ، اخراجات میں معمولی اضافہ، برآمدات میں کمی

مزید خبریں
ٹوکیو۔16فروری (اے پی پی):جاپان کی معیشت سال 2025 کی چوتھی سہ ماہی اکتوبر تا دسمبر میں سالانہ بنیادوں پر 0.2 فیصد بڑھی ، مہنگائی کے دباؤ کے باوجود ذاتی اخراجات میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ امریکی ٹیرف کے باعث آٹو برآمدات میں کمی سے مجموعی برآمدات کمزور رہیں۔جاپانی خبررساں ادارے نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ چوتھی سہ ماہی میں افراط زر سے ایڈجسٹ شدہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) جولائی تا ستمبر کے مقابلے میں 0.1 فیصد بڑھی، جی ڈی پی میں توسیع متوقع تو تھی تاہم یہ اندازوں سے کہیں کم رہی۔
جاپان سینٹر فار اکنامک ریسرچ کے ماہرین اقتصادیات نے سالانہ بنیاد پر 1.48 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران جی ڈی پی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 662.79 ٹریلین ین (43 کھرب ڈالر) تک پہنچ گئی۔ حقیقی بنیادوں پر جی ڈی پی 590.68 ٹریلین ین رہی جو 1.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔رپورٹنگ سہ ماہی میں نجی کھپت، جو معیشت کا نصف سے زائد حصہ ہے، مسلسل ساتویں سہ ماہی میں 0.1 فیصد بڑھی۔ یہ اضافہ موبائل فونز اور رہائش کی مضبوط طلب کے باعث ممکن ہوا تاہم خوراک اور گاڑیوں پر اخراجات میں کمی دیکھی گئی۔
نورِنچوکِن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیف اکنامسٹ تاکیشی منامی نے کہا کہ مزدور یونینز کے ساتھ مذاکرات کے بعد مالی سال 2025 کے لیے تنخواہوں میں اضافے پر اتفاق کے باوجود سہ ماہی کے دوران کھپت میں اضافہ سست رفتار رہا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال، جو اپریل سے شروع ہو گا، میں تنخواہوں میں مزید اضافے اور اس کے نتیجے میں خوراک اور سفر جیسے شعبوں میں اخراجات بڑھنے پر توجہ مرکوز رہے گی کیونکہ یہ شعبے مہنگائی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹنگ مدت کے دوران برآمدات جولائی تا ستمبر کے مقابلے میں 0.3 فیصد کم ہوئیں۔ اس کمی کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد ٹیرف کے باعث گاڑیوں کی کمزور برآمدات رہیں،
تاہم یہ کمی گزشتہ سہ ماہی کی 1.4 فیصد کمی سے کم تھی۔کابینہ آفس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ستمبر کے وسط میں جاپان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کے بعد بلند ٹیرف کے اثرات کاروباری اور صارفین کے اعتماد پر زیادہ گہرے نہیں پڑے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی ٹیرف کا اثر اب بھی موجود ہے تاہم تجارتی معاہدے کے نفاذ سے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کم ہو رہی ہے۔کابینہ آفس کے مطابق جاپان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے کم اخراجات نے بھی برآمدات میں کمی میں کردار ادا کیا کیونکہ قومی حسابات میں ان کے اخراجات کو برآمدات میں شمار کیا جاتا ہے۔ درآمدات میں بھی 0.3 فیصد کمی آئی۔رہائشی سرمایہ کاری گزشتہ سہ ماہی کی 8.4 فیصد نمایاں کمی کے بعد 4.8 فیصد بڑھ گئی۔








