ریاض۔16فروری (اے پی پی):سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے دفاعی ترقی نے کہا ہے کہ دفاعی اور سکیورٹی شعبوں کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے 6 جدید پلیٹ فارمز لانچ کر دیے ہیں جن میں مرکزی پلیٹ فارمز اور بڑے لسانی ماڈلز شامل ہیں جنہیں آپریشنل سطح پر تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ تکنیکی خودمختاری اور قومی تیاری کو مزید تقویت ملے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات اتھارٹی کے …
سعودی عرب،دفاعی و سکیورٹی شعبوں کی مضبوطی کے لیے 6 جدید پلیٹ فارمز لانچ

مزید خبریں
ریاض۔16فروری (اے پی پی):سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے دفاعی ترقی نے کہا ہے کہ دفاعی اور سکیورٹی شعبوں کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے 6 جدید پلیٹ فارمز لانچ کر دیے ہیں جن میں مرکزی پلیٹ فارمز اور بڑے لسانی ماڈلز شامل ہیں جنہیں آپریشنل سطح پر تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ تکنیکی خودمختاری اور قومی تیاری کو مزید تقویت ملے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات اتھارٹی کے ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کے اسسٹنٹ گورنر ڈاکٹر ماجد القرنی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ماہرانہ تکنیکی صلاحیتیں تیار کرنے کے حوالے سے ایک جدید مرحلے پر پہنچ چکا ہے اور اب یہ فوجی استعمال کے آپریشنل سسٹمز میں ضم ہونے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی مشنز میں ان کا شامل ہونا محض ایک تکنیکی انتخاب نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سٹریٹجک تبدیلی ہے جو جدید میدانِ جنگ کی نوعیت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو ضم کرنے کے لیے ایک مکمل نظام کی ضرورت ہے جس میں جدید مواصلاتی ڈھانچہ، لچکدار ڈیٹا آرکیٹیکچر اور اعلیٰ آپریشنل صلاحیتیں شامل ہوں تاکہ اس ٹیکنالوجی کا محفوظ اور موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
ا ن کا کہنا تھا کہ میدانِ جنگ میں آپریشنل تبدیلی اب ادراکی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہے جو متعدد صلاحیتوں والے مرکزی مصنوعی ذہانت کے حامل دماغ اور خودکار پلیٹ فارمز کے جھنڈ پر مبنی ہے جو سمارٹ ایجنٹس کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرتے ہیں، اس سے نقل و حرکت اور مشنوں کا انتظام حقیقی وقت میں مربوط طریقے سے کرنا ممکن ہو جائے گا۔ ڈاکٹر ماجد القرنی نے واضح کیا کہ تبدیلی کے ماڈل کا تعین ایسا سٹریٹجک فیصلہ ہے جسے مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ دور کے دفاعی مشنوں کی نوعیت بارے وضاحت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاعی ادارے دو اہم راستوں کے سامنے کھڑے ہیں، پہلا راستہ مصنوعی ذہانت کو موجودہ کام کے طریقہ کار میں شامل کرنا ہے جس میں آپریشنز کا عمومی ڈھانچہ تقریباً برقرار رہتا ہے اور کمپیوٹر ویژن، پیشگوئی پر مبنی تجزیات اور فیصلہ سازی میں معاون الگورتھم جیسی ایپلی کیشنز استعمال کی جاتی ہیں، دوسرا راستہ بنیادی تبدیلی لانا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کی پوری قدرتی زنجیر بشمول پروسیسرز، ڈیٹا، ماڈلز اور ایڈوانسڈ ایجنٹ سسٹمز شامل ہیں، یہ آپشن بھاری سرمایہ کاری اور اعلیٰ تیاری کا متقاضی ہے لیکن یہی مستقبل میں برتری کا محور ہے۔
سعودی عہدیدار نے بتایا کہ جنرل اتھارٹی برائے دفاعی ترقی جو تحقیق، ترقی اور اختراع کی سرگرمیوں کے اہداف اور ترجیحات کا تعین کرتی ہے، مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے تین متوازی راستوں پر عمل پیرا ہے، اس کا آغاز ایک ایسے ادارے میں تبدیلی سے ہوتا ہے جو مصنوعی ذہانت پر انحصار کرے جہاں ہر فیصلہ جدید تجزیاتی نظاموں کی مدد سے کیا جائے، اس کے بعد تحقیق و ترقی کو بااختیار بنایا جاتا ہے تاکہ صلاحیتوں کے خلا کو پُر کیا جائے اور اختراع کی رفتار تیز کی جائے، آخر میں ایسے ملٹی سسٹم پلیٹ فارمز کی تعمیر کی جاتی ہے جو مصنوعی ذہانت کو ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرنے اور سمارٹ ایجنٹس کو بگ ڈیٹا اور ماہرانہ ماڈلز کے ساتھ مختلف منظرناموں میں مربوط کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
ڈاکٹر القرنی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی کچھ ایپلی کیشنز اس وقت موجودہ سسٹمز میں بتدریج اختراع کے فریم ورک کے تحت استعمال ہو رہی ہیں، تاہم تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز کے لیے آپریشنل آرکیٹیکچر کی مکمل ازسرِ نو ڈیزائننگ ضروری ہے تاکہ حقیقی وقت میں فیصلہ سازی ایک لازمی ضرورت بن جائے، اس طرح انسانی کردار فیصلے کی زنجیر کے آخری مرحلے تک منتقل ہو جاتا ہے جسے’’ہیومن ان دی لوپ‘‘ کا تصور کہا جاتا ہے۔
دفاعی شعبے کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے چیلنجز کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ سب سے اہم چیلنج سسٹمز کے درمیان رابطے کی صلاحیت اور پیچیدہ ماحول میں کارکردگی کی درستگی ہے، اس کے علاوہ مستقبل کی تبدیلی کے ایسے منصوبے بنانا ہے جو بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کے انضمام کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادراکی نظام کمانڈ اور کنٹرول کے تصورات کو نئے سرے سے تشکیل دیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریگولیٹری فریم ورک کو اس تکنیکی رفتار کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ گورننس کے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر ترقی حاصل کی جا سکے۔
ڈاکٹر ماجد القرنی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی اگلی لہر انسانی ذہانت اور مشین کے درمیان فرق کو مزید کم کر دے گی اور مخصوص حالات میں انسانی تجربات کو منتقل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی یہاں تک کہ ایسے درجے حاصل ہو سکتے ہیں جہاں سسٹمز انسانی کارکردگی سے بھی آگے نکل جائیں، یہ صورتحال انسانی عملے پر مشتمل سسٹمز اور روایتی فوجی منصوبہ بندی و تربیت کے دور کے خاتمے اور ایک نئے مرحلے کے آغاز کی نوید ہے جو دفاع اور سکیورٹی کے میدانوں میں برتری کے تصور کو ازسرِ نو متعارف کرائے گا۔








