اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے مقدمے میں ملزم ارشد عرف بلو کی عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی، جبکہ ایف آئی آر اور پولیس ریکارڈ میں مدعی کے نام کے ساتھ "نو مسلم شیخ" لکھنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ اسلام میں کسی شخص کے قبولِ اسلام کی بنیاد پر اس کی حیثیت …
سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کی عمر قید کم کرکے 15 سال کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے مقدمے میں ملزم ارشد عرف بلو کی عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی، جبکہ ایف آئی آر اور پولیس ریکارڈ میں مدعی کے نام کے ساتھ "نو مسلم شیخ” لکھنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ اسلام میں کسی شخص کے قبولِ اسلام کی بنیاد پر اس کی حیثیت یا وقار میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کسی بھی فرد کو تبدیلِ مذہب کی بنیاد پر نیا یا الگ ظاہر کرنا غیر قانونی ہے۔ انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "بھنگی، چوڑا اور مسلی” جیسے الفاظ ذات کی پہچان نہیں بلکہ تضحیک کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ معاشرہ انسان کی عزت اس کے وقار کے بجائے اس کے پیشے کی نوعیت سے طے کرتا ہے۔ شہروں کو رہنے کے قابل بنانے والوں کو گندا یا کم تر سمجھنا ایک اخلاقی ناکامی ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پولیس ریکارڈ میں ذات پات کے سابقے یا لاحقے لگانا آئینِ پاکستان کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 26 مذہب، نسل، ذات یا جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو روکتا ہے۔ قانون اور معاشرے کی نظر میں ہر شخص وقار، عزت اور برابری کا حقدار ہے چاہے اس کا پیشہ کچھ بھی ہو۔عدالت نے تمام صوبوں کے آئی جیز اور اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی ایف آئی آر میں ذات پات یا برادری کا ذکر نہ کیا جائے۔ اسی طرح گرفتاری کی یادداشت، برآمدگی رپورٹ اور چالان میں بھی کسی کی ذات یا قبائلی شناخت درج نہیں کی جائے گی۔
پولیس ریکارڈ میں کسی کے تبدیلیِ مذہب کی حیثیت یا تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال ممنوع ہوگا۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ذات کا ذکر صرف اسی صورت کیا جا سکے گا جب تفتیشی افسر کے پاس اس کی تحریری اور ٹھوس وجوہات موجود ہوں۔مقدمے کے مطابق پولیس نے ایف آئی آر میں مدعی جہانگیر کے نام کے ساتھ "نو مسلم شیخ” کا لفظ استعمال کیا تھا، جس پر عدالت نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق ملزم ارشد عرف بلو نے اکتوبر 2004 میں محمد طفیل کو قتل کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جائے وقوعہ پر ہاتھا پائی اور مقتول کے جسم کے غیر اہم حصے پر ایک فائر لگنے کو رعایت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی۔فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا، جبکہ بینچ میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔








