رمضان المبارک کے دوران افطار اور سحر میں تلی ہوئی اشیاء کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے،ماہرین صحت

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):ماہرین صحت نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران افطار اور سحر میں تلی ہوئی اشیاء کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ روزے کے بعد معدہ طویل وقفے کے بعد خوراک حاصل کرتا ہے، ایسے میں زیادہ چکنائی والی غذاؤں کا استعمال نظامِ ہاضمہ پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سموسے، پکوڑے، چپس اور دیگر …

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):ماہرین صحت نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران افطار اور سحر میں تلی ہوئی اشیاء کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ روزے کے بعد معدہ طویل وقفے کے بعد خوراک حاصل کرتا ہے، ایسے میں زیادہ چکنائی والی غذاؤں کا استعمال نظامِ ہاضمہ پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق سموسے، پکوڑے، چپس اور دیگر گہری تلی ہوئی اشیاء کا زیادہ استعمال بدہضمی، معدے کی تیزابیت، موٹاپے، بلند فشارِ خون اور دل کے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ خصوصاً شوگر، دل اور معدے کے مریضوں کو اپنی خوراک میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کیا جائے اور غذا میں پھل، سلاد، دالیں، ابلی یا گرل شدہ اشیاء کو شامل کیا جائے۔

اس کے علاوہ پانی کا مناسب استعمال بھی صحت کے لیے ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔انہوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں متوازن غذا کو ترجیح دیں، چکنائی اور نمک کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تاکہ اس بابرکت مہینے میں عبادات کے ساتھ ساتھ صحت کا بھی خیال رکھا جا سکے۔