اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ میں قصور سے تعلق رکھنے والے سزائے موت کے ملزم کی اپیل پر سماعت کی گئی۔ سماعت کے دوران مقتول کے والد نے وڈیو لنک پر موجود اپنی سابق اہلیہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود خاتون کے بارے میں استفسار کیا کہ یہ کون ہیں؟ اس پر وکیل مدعی …
سپریم کورٹ میں قصور کے سزائے موت کے ملزم کی اپیل پر سماعت

مزید خبریں
اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ میں قصور سے تعلق رکھنے والے سزائے موت کے ملزم کی اپیل پر سماعت کی گئی۔ سماعت کے دوران مقتول کے والد نے وڈیو لنک پر موجود اپنی سابق اہلیہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود خاتون کے بارے میں استفسار کیا کہ یہ کون ہیں؟ اس پر وکیل مدعی نے بتایا کہ سامنے کھڑے شخص کی سابقہ بیوی ہیں اور جو قتل ہوا وہ ان دونوں کا بیٹا تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مقتول کے والد سے پوچھا کہ ان کی کتنی شادیاں ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ان کی چار شادیاں ہیں۔ سماعت کے دوران مقتول کی والدہ نے ملزم کو معاف کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ان سے پوچھا کہ وہ ملزم کو کیوں معاف کرنا چاہتی ہیں؟ خاتون نے جواب دیا کہ وہ اللہ کے واسطے معاف کرنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے دریافت کیا کہ کہیں ان پر کسی قسم کا دباؤ تو نہیں ڈالا گیا۔
ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پہلے رضامندی کا تحریری معاہدہ پیش کیا جائے پھر معاملہ دیکھا جائے گا۔ جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی بادشاہت کا دور نہیں کہ صرف رضامندی کے معاہدوں پر فیصلے ہوں۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت لاہور رجسٹری میں مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔








