پشاور۔ 19 فروری (اے پی پی):بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے جمعرات کو مولوی جی ہسپتال ہشتنگری میں جدید ترین بے نظیر نشوونما سینٹر کا افتتاح کر دیا جبکہ بی آئی ایس پی سہ ماہی نقدی امداد 13,500 روپے سے بڑھا کر 14,500 روپے کرنے کا اعلان کیا۔ اس امدادی پیکج سے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے تقریباً ایک کروڑ …
سینیٹر روبینہ خالد کا پشاور میں بے نظیر نشوونما سینٹر کا افتتاح، سہ ماہی بی آئی ایس پی امداد 14,500 کرنے کا اعلان

مزید خبریں
پشاور۔ 19 فروری (اے پی پی):بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے جمعرات کو مولوی جی ہسپتال ہشتنگری میں جدید ترین بے نظیر نشوونما سینٹر کا افتتاح کر دیا جبکہ بی آئی ایس پی سہ ماہی نقدی امداد 13,500 روپے سے بڑھا کر 14,500 روپے کرنے کا اعلان کیا۔ اس امدادی پیکج سے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے تقریباً ایک کروڑ رجسٹرڈ مستحقین مستفید ہوں گے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے سینٹر کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا، صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا اور قد میں کمی کا شکار بچوں کی ماؤں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل دریافت کئے۔
مسئلے کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے سماجی و اقتصادی عدم توازن اور غربت کی وجہ سے قد کی کمی اور کم وزنی کا شکار ہیں۔ اس بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے کےلیے ’’بے نظیر نشوونما پروگرام‘‘ کا آغاز کیا گیا ہےجس کی توجہ بچے کی زندگی کے ابتدائی اہم 1,000 دنوں پر مرکوز ہے۔ اب تک تقریباً 43 لاکھ مستحقین بشمول 12 لاکھ رجسٹرڈ خواتین اور بچے بے نظیر نشوونما پروگرام کے تحت اندراج کر اچکے ہیں جسے ورلڈ فوڈ پروگرام اور محکمہ صحت کے تعاون سے پاکستان بھر میں 542 نشوونما سہولت مراکز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی حکام کو ہدایت کی کہ وہ طبی ماہرین، بالخصوص ماہرینِ اطفال اور ماہرینِ امراضِ نسواں میں آگاہی بڑھائیں تاکہ قد میں کمی کا شکار بچوں اور حاملہ خواتین کو معیاری علاج کے لیے بروقت بے نظیر نشوونما مراکز ریفر کیا جا سکے۔انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جامع تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نچلی سطح پر بچوں میں قد کی کمی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے اور حاملہ و دودھ پلانے والی ماؤں کی مدد کی جا سکے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے کم وسیلہ رجسٹرڈ خاندانوں کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے تعلیمی اور نشوونما کے وظائف میں 500 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ بچوں کی دو سال تک نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں مفت غذائی سپلیمنٹس فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی ضروری مدد ملتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں تعلیم اور نشوونما پروگراموں کے لیے غربت کے اسکور کی حد 60 مقرر کی گئی ہے اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے رہائشیوں تک اسی طرح کے فوائد پہنچانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ بی آئی ایس پی تعلیمی پروگرام کے تحت، ایک مستحق خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے حال ہی میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوہاٹ کے امتحان میں پوزیشن حاصل کی ہے. چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت 160 بی آئی ایس پی نشوونما مراکز فعال ہیں جن میں 10 پشاور میں ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ایک تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستحقین میں چھ ماہ کی عمر میں قد کی کمی کی شرح کم ہو کر 20 فیصد رہ گئی ہے اور دو سال سے کم عمر کے بچوں میں یہ شرح غیر مستحقین کے مقابلے میں 6.2 فیصد کم ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مالی امداد کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ’’ڈیجیٹل والٹ‘‘ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ بی آئی ایس پی دفاتر اور کیمپ سینٹرز میں رجسٹرڈ مستحقین کو مفت سم کارڈ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
توقع ہے کہ یہ نظام رواں سال مارچ تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ اقدام صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق شروع کیا گیا ہے تاکہ وظائف کی فوری اور شفاف ادائیگی کو یقینی بنایا جا سک۔ انٹرآپریبلٹی پروگرام کے تحت مستحقین پاکستان بھر کے بینکوں سے اپنے وظائف نکال سکیں گے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے مستحقین پر زور دیا کہ وہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں شکایات درج کرائیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے محترمہ کو ایک دلیر رہنما قرار دیا جنہوں نے اپنی زندگی پاکستان کے عوام کےلیے وقف کی اور ان کے حقوق کے لیے جامِ شہادت نوش کیا۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے خواتین کی بااختیاری کےلیے بہادری سے جنگ لڑی اور مستحقین پر زور دیا کہ وہ جمہوریت اور پسماندہ طبقات کی سماجی و اقتصادی بہتری کے لیے ان کی جدوجہد سے ترغیب حاصل کریں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے یہ کہا کہ مستحقین کے بچوں کو تکنیکی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ’بے نظیر اسکلز پروگرام‘ جاری ہے تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے لاکھوں کم وسیلہ خواتین کو مالی شناخت دے کر انہیں بااختیار بنایا ہے اور معاشرے میں سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کی ہے۔ قبل ازیں انہوں نے مولوی جی ہسپتال میں بے نظیر نشوونما سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کرنے کے لیے ربن کاٹا اور یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔
انہوں نے ہسپتال کے لان میں ایک پودا بھی لگایا۔ ڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر/ سی سی ٹی بی آئی ایس پی ڈاکٹر عاصم اعجاز اور ڈی جی بی آئی ایس پی خیبر پختونخوا الف خان آفریدی بھی اس موقع پر موجود تھ۔ قبل ازیں سینیٹر روبینہ خالد نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور صوبائی حکومت کے دیگر متعلقہ حکام سے ملاقات کی اور خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔








