وفاقی وزیر تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ کا نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی و ریڈیوتھراپی انسٹیٹیوٹ(نوری) کا دورہ، پاکستان بیت المال کے تعاون سے مستحق کینسر مریضوں کے لیے جاری فلاحی اقدامات کا جائزہ

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں واقع نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی و ریڈیوتھراپی انسٹیٹیوٹ(نوری) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان بیت المال کے تعاون سے مستحق کینسر مریضوں کے لیے جاری فلاحی اقدامات کا جائزہ لیا۔وفاقی وزیر کے وفد کا استقبال ممبر (سائنس) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی)، ڈائریکٹر جنرل …

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں واقع نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی و ریڈیوتھراپی انسٹیٹیوٹ(نوری) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان بیت المال کے تعاون سے مستحق کینسر مریضوں کے لیے جاری فلاحی اقدامات کا جائزہ لیا۔وفاقی وزیر کے وفد کا استقبال ممبر (سائنس) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی)، ڈائریکٹر جنرل (کینسر ہسپتال) اور ڈائریکٹر نوری نے کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید عمران احمد شاہ نے اے ای سی ایچ نوری اور پی اے ای سی کے دیگر ہسپتالوں کی شاندار خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کا یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے عین مطابق ہے جس کے تحت غربت میں کمی محض نعرہ نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک مشن ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان بیت المال اور دیگر سماجی تحفظ کے پروگراموں کا دائرہ آئندہ برسوں میں بجٹ میں اضافے کے ذریعے مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ مستحق مریضوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے حکومت کی جانب سے پاکستان بیت المال میں حالیہ اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جن سے مستحق مریضوں کو نمایاں فائدہ حاصل ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انفرادی مالی معاونت(میڈیکل) کی حد ایک ملین روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ ملین روپے کر دی گئی ہے۔

2008ء سے اب تک پاکستان بیت المال نے اے ای سی ایچ نوری کے لیے تقریباً تین ارب 44 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جن سے تقریباً انتیس ہزار مریضوں کا علاج ممکن بنایا گیا۔رواں مالی سال میں اب تک نوری کے 1008 مریضوں کے لیے بیت المال کی جانب سے 22 کروڑ 68 لاکھ کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے ۔ سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ پاکستان بیت المال کے ذریعے مریضوں کو دی جانے والی رقم نہ زکوٰۃ ہے اور نہ ہی خیرات، بلکہ یہ وفاقی حکومت کا عطیہ جاتی (اینڈومنٹ) فنڈ ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت جاری کی کہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو علاج کے لیے پاکستان بیت المال کی طرف ریفر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہم اس وقت صحت کی دیکھ بھال کے بجائے مریض کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، حالانکہ صحت کی دیکھ بھال کا مطلب بیماری سے پہلے لوگوں کا خیال رکھنا ہے۔

ہمیں علاج کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر بھی توجہ دینی چاہیے۔وفاقی وزیر نے ہدایات دیں کہ پاکستان بیت المال کے زیرِ سرپرستی مریضوں کے لیے رقوم کی فراہمی کا طریقہ کار مزید آسان بنایا جائے اور ہسپتالوں میں مریضوں کے انتظار کا وقت کم کیا جائے۔اس سے قبل ممبر (سائنس) پی اے ای سی ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے وفاقی وزیر کو اے ای سی ایچ نوری کی مریض نگہداشت کی سہولیات، علاجی استعداد اور پاکستان بیت المال کی معاونت کے مثبت اثرات پر بریفنگ دی۔

انہوں نے ملک بھر میں کام کرنے والے پی اے ای سی کے 21 کینسر ہسپتالوں کے کردار کو اجاگر کیا اور عوامی صحت کے اداروں کے ساتھ مل کر سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے حکومتی تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر اے ای سی ایچ نوری ڈاکٹر حمیرا محمود نے ہسپتال کی کارکردگی پر تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہسپتال کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 2023ء میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اے ای سی ایچ نوری کو ’’ریز آف ہوپ اینکر سینٹر‘‘ قرار دیا ہے۔بعد ازاں وفاقی وزیر نے پاکستان بیت المال کے تعاون سے چلنے والی مختلف سہولیات کا معائنہ کیا، انتظامی چیلنجز کا جائزہ لیا اور مریضوں و مستفید ہونے والوں سے براہ راست ملاقات کر کے فلاحی اقدامات کی افادیت پر ان کی رائے حاصل کی۔ انہوں نے کمزور طبقات بالخصوص جان لیوا بیماریوں سے نبرد آزما افراد کے لیے معیاری صحت کی سہولیات اور سماجی تحفظ کی فراہمی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔