پیٹرولیم قیمتوں کا تعین ایک واضح اور عالمی سطح پر رائج معاشی نظام کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں بین الاقوامی قیمتوں، زرِ مبادلہ کی شرح اور لازمی ذخائر کے اصولوں کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔خرم شہزاد

اسلام آباد۔7مارچ (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر برائے اکنامک اینڈ فنانشل ریفارمز خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم قیمتوں کا تعین ایک واضح اور عالمی سطح پر رائج معاشی نظام کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں بین الاقوامی قیمتوں، زرِ مبادلہ کی شرح اور لازمی ذخائر کے اصولوں کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے …

اسلام آباد۔7مارچ (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر برائے اکنامک اینڈ فنانشل ریفارمز خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم قیمتوں کا تعین ایک واضح اور عالمی سطح پر رائج معاشی نظام کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں بین الاقوامی قیمتوں، زرِ مبادلہ کی شرح اور لازمی ذخائر کے اصولوں کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیسے طے ہوتی ہیں؟معاشرے کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کس طرح پورے موجودہ ذخیرے یا اسٹاک پر لاگو کر دی جاتی ہیں۔اسی دوران کچھ افراد نے اس معاملے کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا ہے، حالانکہ وہ قیمتوں کے تعین کے اصل طریقہ کار کو پوری طرح نہیں سمجھتے،حقیقت میں اس کی وضاحت کافی سادہ ہے۔ یہ بنیادی معاشی اصولوں پر مبنی قیمتوں کا نظام ہے اور یہ طریقہ کار دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ سادہ الفاظ میں بتایا جائے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کس طرح طے ہوتی ہیں۔ یہ نظام صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں اسی طرز پر کام کرتا ہے،یہ تاثر کہ کمپنیاں اسٹاک پر بہت زیادہ’’انوینٹری منافع‘‘ حاصل کر رہی ہیں، دراصل قیمتوں کے نظام اور ذخیرے کے طریقہ کار کو غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں Platts بینچ مارک کی اوسط عالمی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح تبادلہ کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔ قیمت کسی خاص کھیپ (shipment) کی خریداری لاگت پر مبنی نہیں ہوتی جو کئی ہفتے پہلے خریدی گئی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ آئل کمپنیوں کو قانون کے تحت اوگرا کی ہدایت کے مطابق تقریباً 20 دن کا لازمی اسٹاک رکھنا ہوتا ہے (اور حالیہ علاقائی صورتحال کے باعث بعض اوقات اس سے بھی زیادہ)۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں ایک طرف مسلسل پیٹرول فروخت کر رہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف عالمی مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں پر نئی کھیپ خرید کر اپنا اسٹاک دوبارہ بھر رہی ہوتی ہیں۔لہٰذا جب آج ایک لیٹر پیٹرول فروخت کیا جاتا ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے اسی مقدار کا نیا ایندھن موجودہ عالمی قیمت پر خریدنا پڑتا ہے تاکہ لازمی ذخیرہ برقرار رکھا جا سکے۔اسی وجہ سے جسے بعض لوگ ’’انوینٹری منافع‘‘ سمجھتے ہیں وہ دراصل ختم ہو جاتا ہے کیونکہ فروخت شدہ اسٹاک کو مہنگی قیمت پر دوبارہ خرید کر پورا کرنا پڑتا ہے۔حقیقت میں اکثر اس کے برعکس صورتحال بھی پیش آتی ہے۔ جب عالمی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں تو کمپنیوں کو پہلے سے مہنگی قیمت پر خریدا گیا ایندھن کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتا ہے، جس سے انہیں بڑا مالی نقصان ہوتا ہے۔مثال کے طور پردسمبر میں عالمی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 24 روپے فی لیٹر کم کی گئی۔ اس وقت ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس مہنگی قیمت پر خریدا گیا لازمی اسٹاک موجود تھا جس کی وجہ سے انہیں اربوں روپے کا انوینٹری نقصان برداشت کرنا پڑا۔اسی طرح 2022 اور 2023 میں بھی کئی مرتبہ قیمتوں میں کمی کے باعث کمپنیوں کو مہنگی قیمت پر خریدا گیا ایندھن کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا۔یہی طریقہ کار ایک ایسے پاس تھرو پرائسنگ سسٹم میں ہوتا ہے جہاں لازمی اسٹاک برقرار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔کبھی کبھار قیمتوں میں ردوبدل وقتی طور پر منافع کی صورت میں نظر آ سکتا ہے، لیکن عالمی قیمتوں میں کمی کی صورت میں اکثر کمپنیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

لہٰذا یہ تصور درست نہیں کہ کمپنیاں پہلے خریدا گیا سستا تیل فروخت کر کے غیر معمولی منافع کما رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے قیمتوں کے میکانزم سے متعلق یہ وضاحت قابل تفہیم ہے۔