سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کا ملتان کا دورہ، گندم و کپاس کی کاشت کا جائزہ اجلاس

ملتان۔ 08 مارچ (اے پی پی):سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے ملتان کا دورہ کیا اور گندم کی موجودہ صورتحال اور کپاس کی اگیتی کاشت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مگسی، ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس شبیر احمد خان، دیگر افسران اور محکمہ زراعت کے فیلڈ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب …

ملتان۔ 08 مارچ (اے پی پی):سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے ملتان کا دورہ کیا اور گندم کی موجودہ صورتحال اور کپاس کی اگیتی کاشت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مگسی، ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس شبیر احمد خان، دیگر افسران اور محکمہ زراعت کے فیلڈ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افتخار علی سہو نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے گندم خریداری کا ہدف 30 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے اور موجودہ مقامی و بین الاقوامی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی قیمتیں مستحکم رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے نہری پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ انہار کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کاشتکاروں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سیکرٹری زراعت نے کہا کہ گندم کی فصل اچھی حالت میں ہے اور حالیہ گرمی کی لہر کے دوران کاشتکاروں کو بروقت آبپاشی اور نگہداشت کی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے ڈی جی انفارمیشن کو ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پر کپاس اور دیگر فصلوں کی غیر رجسٹرڈ اقسام کی تشہیر پر مؤثر نگرانی کی جائے۔افتخار علی سہو نے ڈی جی زراعت توسیع کو ہدایت دی کہ کپاس اور دیگر فصلوں کی غیر منظور شدہ اقسام کے ذریعے کاشتکاروں کو دھوکہ دینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جبکہ ڈی جی پیسٹ وارننگ کو غیر معیاری زرعی ادویات کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔انہوں نے کہا کہ 31 مارچ تک 7 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کی اگیتی کاشت کا ہدف حاصل کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے فیلڈ فارمیشنز کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرعی مداخل کی بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جا رہا ہے۔سیکرٹری زراعت نے بتایا کہ کپاس کی چنائی کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مکینیکل ہارویسٹر متعارف کروائے جائیں گے تاکہ کاشتکاروں کو مزدوری کے مسائل سے نجات ملے اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔ انہوں نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت دی کہ کپاس کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مؤثر حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات یقینی بنائیں۔