اسلام آباد۔14مارچ (اے پی پی):آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ایک نجی ادارہ کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ آئندہ چند سال کے دوران آرگینک خوراک کی عالمی مارکیٹ کا مجموعی حجم 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا ، قدرتی زرعی وسائل کے باوجود پاکستان تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں اپنا شیئر حاصل کرنے سے محروم ہے۔ ہفتہ کو اپنے بیان میں انہوں نے …
چند سال میں آرگینک خوراک کی عالمی مارکیٹ کا حجم 300ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا، نجم مزاری
اسلام آباد۔14مارچ (اے پی پی):آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ایک نجی ادارہ کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ آئندہ چند سال کے دوران آرگینک خوراک کی عالمی مارکیٹ کا مجموعی حجم 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا ، قدرتی زرعی وسائل کے باوجود پاکستان تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں اپنا شیئر حاصل کرنے سے محروم ہے۔
ہفتہ کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی رجحانات کے برعکس پاکستان میں آرگینک زراعت کا شعبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، ملک میں آرگینک زراعت کے لیے لاکھوں ہیکٹر رقبہ پر مشتمل موزوں زرعی زمین دستیاب ہے لیکن اس میں سے بہت کم رقبہ باضابطہ طور پر آرگینک سرٹیفکیشن حاصل کر سکا ہے ۔
نجم مزاری نے کہا کہ ملک سے آرگینک زرعی مصنوعات کی برآمدات ہو رہی ہیں تاہم ان کا حجم استعداد کے مقابلہ میں کم ہے ،اگر مناسب پالیسی اور سرٹیفکیشن کا نظام متعارف کرایا جائے تو پاکستان عالمی آرگینک مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی مصنوعات کے مقابلے میں آرگینک مصنوعات کی 25سے 30فیصد تک زیادہ قیمت ملتی ہے،پاکستان کئی ایسی آرگینک مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن کی عالمی منڈی میں بڑی طلب موجود ہے جن میں آرگینک باسمتی چاول، آم، کھجور، سبزیاں، مصالحہ جات، جڑی بوٹیاں ،شہد اور آرگینک کپاس شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان اپنی مجموعی زرعی زمین کا صرف ایک فیصد حصہ بھی باضابطہ آرگینک سرٹیفائیڈ بنا لے تو ملک کی زرعی برآمدات میں اربوں ڈالر تک اضافہ ممکن ہے تاہم اس کے لیے کسانوں کی تربیت، باضابطہ سرٹیفکیشن سسٹم، برآمدی معیار اور سپلائی چین کی بہتری ناگزیر ہے۔









